سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. باب : المخنثين
باب: مخنثوں اور ہیجڑوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2614
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَمِعَ مُخَنَّثًا، وَهُوَ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، إِنْ يَفْتَحْ اللَّهُ الطَّائِفَ غَدًا، دَلَلْتُكَ عَلَى امْرَأَةٍ تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ، وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، تو ایک مخنث کو عبداللہ بن ابی امیہ سے یہ کہتے سنا کہ اگر اللہ تعالیٰ کل طائف فتح کرا دے، تو میں تمہیں ایسی عورت کے بار ے میں بتاؤں گا جو آگے کی طرف مڑتی ہے تو چار سلوٹیں پڑ جاتی ہیں، اور پیچھے کی جانب مڑتی ہے تو آٹھ سلوٹیں ہو جاتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان (مخنثوں) کو اپنے گھروں سے نکال دو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2614]
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے تو سنا کہ ایک مخنث حضرت عبداللہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ سے کہہ رہا تھا: ”اگر کل اللہ تعالیٰ نے طائف میں فتح نصیب فرما دی تو میں تجھے ایک عورت دکھاؤں گا جو آتی ہے تو جسم میں چار بل پڑتے ہیں اور جاتی ہے تو آٹھ بل پڑتے ہیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں اپنے گھروں سے نکال دیا کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2614]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 56 (4324)، صحیح مسلم/السلام 13 (2180)، سنن ابی داود/الأدب 61 (4929)، (تحفة الأشراف: 18263)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/290، 318) (ہذا الحدیث وقد مضی برقم: (1903) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: پہلے اس مخنث کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ سمجھ کر اجازت دی ہو گی کہ وہ ان لوگوں میں سے ہے جن کو عورتوں کا خیال نہیں ہوتا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ عورتوں کی خوبیوں اور خرابیوں کو سمجھتا ہے تو اس کے نکالنے کا حکم دیا، اس مخنث کا نام ہیت تھا، بعضوں نے کہا یہ مدینہ سے بھی نکال دیا گیا تھا، شہر کے باہر رہا کرتا تھا، عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں سنا کہ وہ بہت بوڑھا ہو گیا ہے، اور روٹیوں کا محتاج ہے تو ہفتہ میں ایک بار اس کو شہر میں آنے کی اجازت دی کہ بھیک مانگ کر واپس چلا جایا کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 1902
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَمِعَ مُخَنَّثًا وَهُوَ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ: إِنْ يَفْتَحْ اللَّهُ الطَّائِفَ غَدًا، دَلَلْتُكَ عَلَى امْرَأَةٍ تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ، وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَخْرِجُوهُ مِنْ بُيُوتِكُمْ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، وہاں ایک ہیجڑے کو سنا جو عبداللہ بن ابی امیہ سے کہہ رہا تھا: اگر اللہ کل طائف کو فتح کر دے گا تو میں تم کو ایک عورت بتاؤں گا جو سامنے آتی ہے چار سلوٹوں کے ساتھ اور پیچھے مڑتی ہے آٹھ سلوٹوں کے ساتھ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے گھروں سے باہر نکال دو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 1902]
حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا (اپنی والدہ) ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو (گھر میں) ایک مخنث کو حضرت عبداللہ بن ابوامیہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے سنا: ”اگر اللہ نے کل طائف کی فتح نصیب فرمائی تو میں تجھے ایک عورت دکھاؤں گا جو (اتنی موٹی ہے کہ) آتی ہے تو چار بل پڑتے (نظر آتے) ہیں، جاتی ہے تو آٹھ بل پڑتے (نظر آتے) ہیں۔ (بہت موٹی اور خوب صورت ہے۔)“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے گھروں سے نکال دو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 1902]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 56 (4324)، اللباس 62 (5887)، النکاح 113 (5235)، صحیح مسلم/السلام 13 (2180)، سنن ابی داود/الأدب 61 (4929)، (تحفة الأشراف: 18263)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/290، 318) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم