🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : بدء الأذان
باب: اذان کی ابتداء کیسے ہوئی؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 706
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ الْمَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ هَمَّ بِالْبُوقِ وَأَمَرَ بِالنَّاقُوسِ فَنُحِتَ، فَأُرِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ فِي الْمَنَامِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ، يَحْمِلُ نَاقُوسًا، فَقُلْتُ لَهُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ تَبِيعُ النَّاقُوسَ؟، قَالَ: وَمَا تَصْنَعُ بِهِ؟، قُلْتُ: أُنَادِي بِهِ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ:" أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ؟ قُلْتُ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: تَقُول: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا رَأَى، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ رَجُلًا عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ يَحْمِلُ نَاقُوسًا، فَقَصَّ عَلَيْهِ الْخَبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ رَأَى رُؤْيَا، فَاخْرُجْ مَعَ بِلَالٍ إِلَى الْمَسْجِدِ فَأَلْقِهَا عَلَيْهِ وَلْيُنَادِ بِلَالٌ، فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ"، قَالَ: فَخَرَجْتُ مَعَ بِلَالٍ إِلَى الْمَسْجِدِ فَجَعَلْتُ أُلْقِيهَا عَلَيْهِ وَهُوَ يُنَادِي بِهَا، فَسَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالصَّوْتِ فَخَرَجَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ الَّذِي رَأَى، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ فَأَخْبَرَنِي، أَبُو بَكْرٍ الْحَكَمِيُّ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ، قَالَ فِي ذَلِكَ: أَحْمَدُ اللَّهَ ذَا الْجَلَالِ وَذَا الْإِكْـ ـرَامِ حَمْدًا عَلَى الْأَذَانِ كَثِيرَا إِذْ أَتَانِي بِهِ الْبَشِيرُ مِنَ اللَّـ ـهِ فَأَكْرِمْ بِهِ لَدَيَّ بَشِيرَا فِي لَيَالٍ وَالَى بِهِنَّ ثَلَاثٍ كُلَّمَا جَاءَ زَادَنِي تَوْقِيرَا.
عبداللہ بن زید (عبداللہ بن زید بن عبدربہ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بگل بجوانے کا ارادہ کیا تھا (تاکہ لوگ نماز کے لیے جمع ہو جائیں، لیکن یہود سے مشابہت کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا)، پھر ناقوس تیار کئے جانے کا حکم دیا، وہ تراشا گیا، (لیکن اسے بھی نصاری سے مشابہت کی وجہ سے چھوڑ دیا)، اسی اثناء میں عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو خواب دکھایا گیا، انہوں نے کہا کہ میں نے خواب میں دو سبز کپڑے پہنے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنے ساتھ ناقوس لیے ہوئے تھا، میں نے اس سے کہا: اللہ کے بندے! کیا تو یہ ناقوس بیچے گا؟ اس شخص نے کہا: تم اس کا کیا کرو گے؟ میں نے کہا: میں اسے بجا کر لوگوں کو نماز کے لیے بلاؤں گا، اس شخص نے کہا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتا دوں؟ میں نے پوچھا: وہ بہتر چیز کیا ہے؟ اس نے کہا: تم یہ کلمات کہو «الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حي على الصلاة حي على الصلاة حي على الفلاح حي على الفلاح. الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله»  اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، آؤ نماز کے لیے، آؤ نماز کے لیے، آؤ کامیابی کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ راوی کہتے ہیں: عبداللہ بن زید نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر پورا خواب بیان کیا: عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ایک آدمی کو دو سبز کپڑے پہنے دیکھا، جو ناقوس لیے ہوئے تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پورا واقعہ بیان کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: تمہارے ساتھی نے ایک خواب دیکھا ہے، عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم بلال کے ساتھ مسجد جاؤ، اور انہیں اذان کے کلمات بتاتے جاؤ، اور وہ اذان دیتے جائیں، کیونکہ ان کی آواز تم سے بلند تر ہے، عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد گیا، اور انہیں اذان کے کلمات بتاتا گیا اور وہ انہیں بلند آواز سے پکارتے گئے، عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جوں ہی یہ آواز سنی فوراً گھر سے نکلے، اور آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے بھی یہی خواب دیکھا ہے جو عبداللہ بن زید نے دیکھا ہے۔ ابوعبید کہتے ہیں: مجھے ابوبکر حکمی نے خبر دی کہ عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں چند اشعار کہے ہیں جن کا ترجمہ یہ ہے: میں بزرگ و برتر اللہ کی خوب خوب تعریف کرتا ہوں، جس نے اذان سکھائی، جب اللہ کی جانب سے میرے پاس اذان کی خوشخبری دینے والا (فرشتہ) آیا، وہ خوشخبری دینے والا میرے نزدیک کیا ہی باعزت تھا، مسلسل تین رات تک میرے پاس آتا رہا، جب بھی وہ میرے پاس آیا اس نے میری عزت بڑھائی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 706]
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نرسنگا بجوانے کا ارادہ فرمایا اور ناقوس (کی تیاری) کا حکم دیا تو وہ تراش لیا گیا۔ (اس کے بعد) حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو خواب آیا، وہ فرماتے ہیں: مجھے (خواب میں) دو سبز کپڑے پہنے ہوئے ایک مرد نظر آیا، وہ ناقوس اٹھائے ہوئے تھا۔ میں نے اسے (خواب میں) کہا: اللہ کے بندے! ناقوس بیچو گے؟ اس نے کہا: آپ اس کا کیا کریں گے؟ میں نے کہا: میں اس کے ساتھ نماز کا اعلان کروں گا۔ اس نے کہا: کیا میں آپ کو اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ میں نے کہا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: آپ یوں کہیں: «اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، «اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ» میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں، «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ» میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں، «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» نماز کی طرف آؤ، «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» نماز کی طرف آؤ، «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» کامیابی کی طرف آؤ، «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» کامیابی کی طرف آؤ، «اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ (بیدار ہوئے تو گھر سے) نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا خواب سنایا، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے ایک آدمی نظر آیا جو دو سبز کپڑے پہنے ہوئے تھا، اس کے پاس ناقوس تھا، (اس طرح) پوری بات بتائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھی نے ایک خواب دیکھا ہے۔ (حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا:) تم بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں جاؤ اور انہیں یہ الفاظ بتلاؤ اور بلال رضی اللہ عنہ (ان الفاظ کے ساتھ بلند آواز سے) اعلان کر دیں کیونکہ تمہاری نسبت ان کی آواز بلند ہے۔ میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں گیا، میں انہیں (اذان کے الفاظ) بتاتا گیا اور وہ (اس کے مطابق) اذان کہتے گئے۔ حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (اذان کی) آواز سنی تو وہ بھی گھر سے باہر تشریف لے آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم ہے اللہ کی! مجھے بھی ایسا ہی خواب آیا ہے جیسا انہیں (حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو) آیا ہے۔ حضرت ابوبکر حکمی (ابن ماجہ کے شیخ) سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق یہ اشعار کہے ہیں: مجھ کو اذان سکھائی میرے رب ذوالجلال نے، احسان ہوا خاص رب قدیر کا۔ بھیجا سکھانے اپنے فرشتے کو تین رات، رتبہ بڑھانے اپنے اس بشیر کا۔ وہ تین رات آ کے سکھاتا رہا مجھے، اعزاز یوں بڑھتا رہا تیرے فقیر کا۔ (ترجمہ اشعار از مولانا عبدالحکیم خان اختر شاہ جہاں پوری) [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 706]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 28 (499)، سنن الترمذی/الصلاة 25 (189)، (تحفة الأشراف: 5309)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 3 (379)، مسند احمد (4/42، 43)، سنن الدارمی/الصلاة 3 (1224) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱ ؎: دوسری روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ خواب سچا ہے، ان شاء اللہ تعالی اور عمر رضی اللہ عنہ کے دیکھنے سے اس کی سچائی کا اور زیادہ یقین ہوا، اس پر بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف خواب پر حکم نہیں دیا، بلکہ اس کے بعد آپ پر وحی کی گئی کیونکہ دین کے احکام خواب سے ثابت نہیں ہو سکتے، مگر انبیاء کے خواب وحی میں داخل ہیں، تو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے جس شخص کو خواب میں دیکھا وہ اللہ تعالی کا فرشتہ تھا، اور صرف وحی پر جو اکتفا نہیں ہوئی، اور اذان کئی شخصوں کو خواب میں دکھلائی گئی تو اس میں بھی یہ راز تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور عظمت کا زیادہ ثبوت ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 729
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" الْتَمَسُوا شَيْئًا يُؤْذِنُونَ بِهِ عِلْمًا لِلصَّلَاةِ، فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ، وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو ایسی چیز کی تلاش ہوئی جس کے ذریعہ لوگوں کو نماز کے اوقات کی واقفیت ہو جائے، تو بلال رضی اللہ عنہ کو حکم ہوا کہ وہ اذان کے کلمات دو دو بار، اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 729]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کسی ایسی چیز کی تلاش تھی جس کو علامت بنا کر وہ نماز کی اطلاع دے سکیں۔ (آخر کار) حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ اذان میں دو بار کلمات کہیں اور اقامت میں ایک ایک بار کہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 729]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 1 (603)، 2 (605)، 3 (606)، صحیح مسلم/الصلاة 2 (378)، سنن ابی داود/الصلاة 29 (508)، سنن الترمذی/الصلاة 27 (193)، سنن النسائی/الأذان 2 (628)، (تحفة الأشراف: 943)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/103، 189)، سنن الدارمی/الصلاة 6 (1230) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اقامت کے کلمات ایک ایک بار بھی کہے تو کافی ہے، کیونکہ اقامت حاضرین کو سنانے کے لئے کافی ہوتی ہے، اس میں تکرار کی ضرورت نہیں، اور عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی حدیث (طحاوی اور ابن ابی شیبہ) یہ ہے کہ فرشتے نے اذان دی، دو دو بار اور اقامت کہی دو دو بار، مگر اس سے یہ نہیں نکلتا کہ اقامت کے کلمات ایک ایک بار کہنا کافی نہیں، اور محدثین کے نزدیک تو دونوں امر جائز ہیں، انہوں نے کسی حدیث کے خلاف نہیں کیا، لیکن حنفیہ پر یہ الزام قائم ہوتا ہے کہ افراد اقامت کی حدیثیں صحیح ہیں، تو افراد کو جائز کیوں نہیں سمجھتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں