🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب : تعظيم الرب في الركوع
باب: رکوع میں رب تعالیٰ کی عظمت بیان کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1046
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: كَشَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ، ثُمَّ قَالَ أَلَا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ قَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کا پردہ اٹھایا، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھے کھڑے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! نبوت کی خوشخبری سنانے والی چیزوں میں سے کوئی چیز باقی نہیں بچی ہے سوائے سچے خواب کے جسے مسلمان دیکھے یا اس کے لیے کسی اور کو دکھایا جائے، پھر فرمایا: سنو! مجھے رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے روکا گیا ہے، رہا رکوع تو اس میں اپنے رب کی بڑائی بیان کرو، اور رہا سجدہ تو اس میں دعا کی کوشش کرو کیونکہ اس میں تمہاری دعا قبول کئے جانے کے لائق ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1046]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (دروازے کا) پردہ ہٹایا جب کہ لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفیں باندھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! نبوت سے مخصوص خوش خبری دینے والی چیزوں میں سے اب نیک اور سچے خواب ہی رہ گئے ہیں جو کوئی مسلمان خود دیکھ لے یا اس کے لیے کسی اور کو نظر آئے۔ پھر فرمایا: خبردار! مجھے رکوع یا سجدے کی حالت میں قرآن مجید پڑھنے سے روکا گیا ہے، چنانچہ رکوع میں رب تعالیٰ کی عظمت بیان کرو اور سجدے میں دعا مانگنے کی کوشش کرو (پورا زور لگا دو کیونکہ) سجدے میں دعا قبولیت کے زیادہ لائق ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1046]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 41 (479)، سنن ابی داود/فیہ 152 (876)، سنن ابن ماجہ/الرؤیا 1 (3899)، (تحفة الأشراف: 5812)، مسند احمد 1/219، سنن الدارمی/الصلاة 77 (1364، 1365)، ویأتی عند المؤلف في باب62 (برقم: 1121) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1121
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قال: كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتْرَ وَرَأْسُهُ مَعْصُوبٌ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَقَالَ:" اللَّهُمَّ قَدْ بَلَّغْتُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْعَبْدُ أَوْ تُرَى لَهُ أَلَا وَإِنِّي قَدْ نُهِيتُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ فَإِذَا رَكَعْتُمْ فَعَظِّمُوا رَبَّكُمْ وَإِذَا سَجَدْتُمْ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَإِنَّهُ قَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں جس میں آپ کی وفات ہوئی پردہ ہٹایا، آپ کا سر مبارک کپڑے سے بندھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: اے اللہ! میں نے پہنچا دیا (پھر فرمایا:) نبوت کی خوش خبریوں میں سے سوائے سچے خواب کے جسے بندہ خود دیکھتا ہے یا اس کے لیے کوئی اور دیکھتا ہے کوئی اور چیز باقی نہیں رہ گئی ہے، سنو! مجھے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، تو جب تم رکوع کرو تو اپنے رب کی عظمت بیان کرو، اور جب سجدہ کرو تو دعا میں کوشش کرو کیونکہ یہ حالت اس لائق ہے کہ تمہاری دعا قبول کی جائے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1121]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرضِ وفات میں گھر کی کھڑکی کا پردہ ہٹایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سرِ مبارک پٹی سے باندھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں نے تیرا دین لوگوں تک پہنچا دیا (تین دفعہ فرمایا)۔ اے لوگو! نبوت کے ذریعے سے خوشخبری دینے والی چیزوں میں سے صرف نیک خواب ہی رہ گئے ہیں جنہیں کوئی شخص خود دیکھ لے یا اس کے لیے کسی دوسرے کو نظر آئیں۔ خبردار! مجھے رکوع اور سجدے میں قرآن مجید پڑھنے سے روک دیا گیا ہے، لہٰذا جب تم رکوع کرو تو اپنے رب کی عظمت بیان کرو (تسبیحات پڑھو) اور جب سجدہ کرو تو پوری کوشش سے دعا کرو کیونکہ سجدے کی دعا قبولیت کے بہت لائق ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1121]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1046، (تحفة الأشراف: 5812) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں