🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
101. باب : الوقت الذي ينصرف فيه النساء من الصلاة
باب: نماز سے فراغت کے بعد عورتوں کے گھر لوٹنے کے وقت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1363
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ النِّسَاءُ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ , فَكَانَ إِذَا سَلَّمَ انْصَرَفْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ فَلَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر ادا کرتی تھیں، جب آپ سلام پھیرتے تو وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی نکل جاتیں، اور اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1363]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے فجر کی نماز پڑھتی تھیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرتے تو وہ فوراً اٹھ کر چلی جاتیں، انہوں نے بڑی چادریں لپیٹی ہوتی تھیں اور اندھیرے کی وجہ سے انہیں پہچانا نہیں جا سکتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1363]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16521)، سنن الدارمی/الصلاة 20 (1252) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتیں امام کے سلام پھیرتے ہی اپنے گھروں کو واپس چلی جاتیں، تاکہ مردوں کی بھیڑ بھاڑ سے انہیں واسطہ نہ پڑے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 546
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھتے تھے (آپ کے ساتھ نماز پڑھ کر) عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی لوٹتی تھیں، تو وہ اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 546]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تو عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی گھروں کو واپس جاتی تھیں اور اندھیرے کی بنا پر پہچانی نہ جاتی تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 546]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 13 (372)، المواقیت 27 (578)، والأذان 163 (867)، 165 (872)، صحیح مسلم/المساجد 40 (645)، سنن ابی داود/الصلاة 8 (423)، سنن الترمذی/الصلاة 2 (153)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 17931)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1 (4)، مسند احمد 6/33، 36، 178، 248، 259 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 547
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت:" كُنَّ النِّسَاءُ يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ، فَيَرْجِعْنَ فَمَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْغَلَسِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی فجر پڑھتی تھیں، پھر وہ لوٹتی تھیں تو اندھیرے کی وجہ سے کوئی انہیں پہچان نہیں پاتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 547]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز اپنی چادروں میں لپٹ کر پڑھتی تھیں، پھر واپس جاتیں تو اندھیرے کی بنا پر کوئی انہیں پہچان نہیں سکتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 547]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 40 (645)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 2 (669)، مسند احمد 6/ 37، (تحفة الأشراف: 16442) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں