سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب : الترغيب في قيام الليل
باب: قیام اللیل (تہجد) کی ترغیب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1613
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَمِّي، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قال: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى فَاطِمَةَ مِنَ اللَّيْلِ فَأَيْقَظَنَا لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّى هَوِيًّا مِنَ اللَّيْلِ فَلَمْ يَسْمَعْ لَنَا حِسًّا، فَرَجَعَ إِلَيْنَا فَأَيْقَظَنَا , فَقَالَ:" قُومَا فَصَلِّيَا" , قَالَ: فَجَلَسْتُ وَأَنَا أَعْرُكُ عَيْنِي وَأَقُولُ: إِنَّا وَاللَّهِ مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِنْ شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا , قَالَ: فَوَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ وَيَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ:" مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا سورة الكهف آية 54".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں میرے اور فاطمہ کے پاس آئے، اور آپ نے ہمیں نماز کے لیے بیدار کیا، پھر آپ اپنے گھر لوٹ گئے، اور جا کر دیر رات تک نماز پڑھتے رہے، جب آپ نے ہماری کوئی آہٹ نہیں سنی تو آپ دوبارہ ہمارے پاس آئے، اور ہمیں بیدار کیا، اور فرمایا: ”تم دونوں اٹھو، اور نماز پڑھو“، تو میں اٹھ کر بیٹھ گیا، میں اپنی آنکھ مل رہا تھا اور کہہ رہا تھا: ”قسم اللہ کی، ہم اتنی ہی پڑھیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے، ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، اگر وہ ہمیں بیدار کرنا چاہے گا تو بیدار کر دے گا“ تو یہ سنا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیٹھ پھیر کر جانے لگے، آپ اپنے ہاتھ سے اپنی ران پر مار رہے تھے، اور کہہ رہے تھے: ”ہم اتنی ہی پڑھیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے، ۱؎ انسان بہت ہی حجتی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1613]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت میرے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور ہمیں نماز (تہجد) کے لیے جگایا، پھر اپنے گھر تشریف لے گئے اور کافی دیر تک نماز پڑھتے رہے۔ آپ نے ہماری طرف سے کوئی آواز یا آہٹ نہ سنی تو دوبارہ تشریف لائے اور ہمیں پھر جگایا اور فرمایا: ”اٹھو اور نماز پڑھو۔“ میں آنکھیں ملتا ہوا اٹھا اور کہہ رہا تھا: اللہ کی قسم! ہم تو وہی نماز پڑھیں گے جو اللہ نے ہماری قسمت میں لکھی ہے، ہماری روحیں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، اگر وہ چاہے گا تو ہمیں اٹھا دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ران مبارک پر ہاتھ مارتے واپس تشریف لے گئے اور فرما رہے تھے: ”ہم وہی نماز پڑھیں گے جو اللہ نے ہماری قسمت میں لکھی ہے اور ﴿وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا﴾ [سورة الكهف: 54] حقیقت یہ ہے کہ انسان سب سے زیادہ کٹ حجت ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1613]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1612 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ علی رضی اللہ عنہ کی بات تھی جسے آپ بطور تعجب دہرا رہے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1612
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيّ حَدَّثَهُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ , فَقَالَ:" أَلَا تُصَلُّونَ" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهَا بَعَثَهَا , فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ , وَيَقُولُ: وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا سورة الكهف آية 54.
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور فاطمہ کو (دروازہ کھٹکھٹا کر) بیدار کیا، اور فرمایا: ”کیا تم نماز نہیں پڑھو گے؟“ تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہماری جانیں تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں، جب وہ انہیں اٹھانا چاہے گا اٹھا دے گا، جب میں نے آپ سے یہ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پلٹ پڑے، پھر میں نے آپ کو سنا، آپ پیٹھ پھیر کر جا رہے تھے اور اپنی ران پر (ہاتھ) مار کر فرما رہے تھے: «وكان الإنسان أكثر شىء جدلا» ”انسان بہت حجتی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1612]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت ان کے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”کیا تم رات کی نماز نہیں پڑھتے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری روحیں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، جب اللہ تعالیٰ چاہے گا ہمیں جگا دے گا۔ جب میں نے یہ بات کہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے۔ میں نے سنا، آپ اپنی ران مبارک پر (افسوس و ناراضی سے) ہاتھ مارتے جا رہے تھے اور کہہ رہے تھے: ﴿وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا﴾ [سورة الكهف: 54] ”انسان سب سے بڑھ کر کٹ حجت ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1612]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التھجد 5 (1127)، تفسیر الکھف 1 (4724)، الاعتصام 18 (7347)، التوحید 31 (7465)، صحیح مسلم/المسافرین 28 (775)، (تحفة الأشراف: 10070)، مسند احمد 1/112 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه