🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
168. باب : ذكر الصفا والمروة
باب: صفا و مروہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2973
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا جَابِرٌ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَى الصَّفَا، وَقَالَ:" نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ" , ثُمَّ قَرَأَ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا کی طرف نکلے اور آپ نے فرمایا: ہم اسی سے شروع کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے، پھر آپ نے «إن الصفا والمروة من شعائر اللہ» کی تلاوت کی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2973]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوہ صفا کی طرف نکلے اور فرمایا: ہم اس پہاڑی سے ابتدا کریں گے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے پہلے فرمایا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 158] بلاشبہ صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ علامات میں سے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2973]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2972 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2965
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ سَبْعًا: رَمَلَ ثَلَاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا، ثُمَّ قَرَأَ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 , فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ، وَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ:" إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَابْدَءُوا بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ".
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف میں کعبہ کے سات پھیرے لگائے، تین پھیروں میں رمل کیا اور چار پھیروں میں عام چال چلے، پھر آیت کریمہ: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» پڑھی اس کے بعد مقام ابراہیم کو اپنے اور خانہ کعبہ کے درمیان کر کے دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر آپ نے حجر اسود کا استلام کیا پھر نکلے اور آیت کریمہ: «إن الصفا والمروة من شعائر اللہ» صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں پڑھی تو جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا، اسی سے تم بھی شروع کرو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2965]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بیت اللہ کے گرد) سات چکر لگائے۔ تین میں کندھے ہلا کر تیز تیز چلے اور چار میں آرام سے چلے، پھر یہ آیت پڑھی: ﴿وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾ [سورة البقرة: 125] تم مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات پڑھیں اور مقام ابراہیم کو اپنے اور کعبے کے درمیان رکھا، پھر حجر اسود کو بوسہ دیا، پھر نکلے اور فرمایا: صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ علامات ہیں۔ چنانچہ وہاں سے شروع کرو جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے پہلے فرمایا ہے (یعنی سعی کا آغاز صفا سے کرو)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2965]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2972
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ وَهُوَ يُرِيدُ الصَّفَا وَهُوَ يَقُولُ:" نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ".
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت آپ مسجد (خانہ کعبہ) سے نکلے اور صفا کا ارادہ کر رہے تھے فرماتے سنا: ہم وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2972]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکل کر صفا و مروہ کے طواف کے ارادے سے آ رہے تھے: ہم اس مقام سے ابتدا کریں گے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے پہلے فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2972]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2621، موطا امام مالک/الحج 41 (126) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2976
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ" وَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّفَا، يُهَلِّلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُو بَيْنَ ذَلِكَ".
ابو جعفر بن محمد الباقر کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے سلسلے میں جابر رضی اللہ عنہ سے سنا: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پر رکتے، آپ اس کے درمیان اللہ عزوجل کی تہلیل کرتے، اور دعا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2976]
حضرت محمد باقر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں سنا کہ آپ کوہ صفا پر کھڑے ہو کر (بار بار) «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں پڑھتے تھے اور اس ذکر کے دوران میں دعائیں بھی فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2976]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2975 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2977
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا: رَمَلَ مِنْهَا ثَلَاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا، ثُمَّ قَامَ عِنْدَ الْمَقَامِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَقَرَأَ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 , وَرَفَعَ صَوْتَهُ يُسْمِعُ النَّاسَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَاسْتَلَمَ، ثُمَّ ذَهَبَ , فَقَالَ:" نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ، فَبَدَأَ بِالصَّفَا، فَرَقِيَ عَلَيْهَا، حَتَّى بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، وَقَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَكَبَّرَ اللَّهَ وَحَمِدَهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَا قُدِّرَ لَهُ، ثُمَّ نَزَلَ مَاشِيًا، حَتَّى تَصَوَّبَتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْمَسِيلِ، فَسَعَى حَتَّى صَعِدَتْ قَدَمَاهُ، ثُمَّ مَشَى، حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ، فَصَعِدَ فِيهَا، ثُمَّ بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ ذَكَرَ اللَّهَ، وَسَبَّحَهُ وَحَمِدَهُ، ثُمَّ دَعَا عَلَيْهَا بِمَا شَاءَ اللَّهُ، فَعَلَ هَذَا حَتَّى فَرَغَ مِنَ الطَّوَافِ".
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کا سات پھیرا کیا، جس میں سے تین میں رمل کیا، اور چار میں عام چال چلے۔ پھر مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھی، اور آیت: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» پڑھی اور (پڑھتے وقت) آواز بلند کی، آپ لوگوں کو سنا رہے تھے پھر آپ پلٹے اور حجر اسود کا استلام کیا پھر (صفا کی طرف) گئے اور فرمایا: جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے اسی سے ہم بھی (سعی) شروع کریں گے، پھر آپ نے صفا سے شروع کیا تو آپ اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ دکھائی دینے لگا تو تین بار آپ نے «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شىء قدير» پڑھا اللہ کی بڑائی بیان کی، اور اس کی تعریف کی اور حسب توفیق دعائیں مانگی۔ پھر پیدل ہی نیچے اترے یہاں تک کہ وادی کے بالکل نشیب میں پہنچ گئے تو آپ دوڑے یہاں تک کہ آپ کے قدم بلندی کی طرف بڑھے پھر آپ عام رفتار سے چلے یہاں تک کہ مروہ پہاڑی پر آئے تو اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ آپ کو دکھائی دینے لگا تو آپ نے تین بار «‏لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» تین بار پڑھا۔ پھر اللہ کا ذکر کیا، اس کی تسبیح اور تعریف کی اور دعا مانگی جتنی اللہ کو منظور تھیں اسی طرح (ہر بار) کرتے رہے یہاں تک کہ سعی سے فارغ ہو گئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2977]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے۔ ان میں سے تین چکروں میں کندھے ہلا کر تیز تیز چلے اور چار چکر آرام سے چلے، پھر مقامِ ابراہیم کے پاس آ کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں اور یہ آیت ﴿وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾ [سورة البقرة: 125] پڑھی: تم مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ۔ یہ آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو سنانے کے لیے بلند آواز سے پڑھی۔ پھر دوبارہ حجرِ اسود کے پاس گئے اور اسے بوسہ دیا، پھر (باہر کو) چلے اور فرمایا: ہم اس (پہاڑی) سے ابتدا کریں گے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے پہلے فرمایا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے صفا پر گئے۔ اس پر چڑھے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ نظر آنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ فرمایا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» اللہ کے سوا کوئی (سچا) معبود نہیں۔ وہ یکتا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ بادشاہت اسی کی ہے۔ تمام تعریفات اسی کے لیے ہیں۔ وہی زندہ کرتا اور موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» اور «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» پڑھتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائیں فرمائیں جو آپ کے مقدر میں تھیں، پھر نیچے اترنے لگے حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک نشیب میں جا گزیں ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوڑنے لگے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم (مروہ کی چڑھائی) چڑھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر چلنا شروع کر دیا حتیٰ کہ مروہ تک پہنچ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر چڑھے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ نظر آنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ یہ پڑھا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» اللہ کے سوا کوئی (سچا) معبود نہیں۔ وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ بادشاہی اور تعریف اسی کو زیبا ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کا ذکر فرماتے رہے اور تسبیح و تحمید کرتے رہے، پھر جو اللہ تعالیٰ نے چاہا، دعائیں فرمائیں۔ سب چکروں میں اسی طرح کرتے رہے حتیٰ کہ (صفا مروہ کے) طواف سے فارغ ہو گئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2977]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2942 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں