سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب : سؤر الهرة
باب: بلی کے جھوٹے کا بیان۔
حدیث نمبر: 341
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، فَسَكَبْتُ لَهُ وَضُوءًا، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ فَشَرِبَتْ مِنْهُ فَأَصْغَى لَهَا الْإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ، قالت كَبْشَةُ: فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أَخِي؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قال: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ".
کبشہ بنت کعب سے روایت ہے کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے (پھر راوی نے ایک کلمے کا ذکر کیا جس کا مفہوم ہے) کہ میں نے ان کے لیے وضو کا پانی (لوٹے میں) ڈالا، اتنے میں ایک بلی آئی، اور اس سے پینے لگی، تو انہوں نے اس کے لیے برتن جھکا دیا یہاں تک کہ اس نے پی لیا، کبشہ کہتی ہیں: تو انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں انہیں (تعجب سے) دیکھ رہی ہوں، تو کہنے لگے: بھتیجی! کیا تم تعجب کر رہی ہو؟ میں نے کہا: ہاں! تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”یہ ناپاک نہیں ہے، یہ تو تمہارے پاس بکثرت آنے جانے والوں اور آنے جانے والیوں میں سے ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 341]
حضرت کبشہ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے، میں نے ان کے لیے وضو کا پانی ڈالا، اتنے میں ایک بلی آئی اور اس سے پینے لگی، انہوں نے اس کے لیے برتن جھکا دیا (تاکہ وہ اچھی طرح پی سکے۔) حضرت کبشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: چنانچہ انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں (تعجب سے) دیکھ رہی ہوں تو وہ کہنے لگے: ”اے بھتیجی! کیا تعجب کرتی ہو؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں!“ وہ کہنے لگے: ”تحقیق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: «إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ» ”بلاشبہ یہ (بلی) پلید نہیں ہے۔ یہ تو تم پر آنے جانے والے (نوکروں اور نوکرانیوں) کی طرح ہے۔““ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 341]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 68 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 68
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا، ثُمَّ ذَكَرَتْ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، فَسَكَبْتُ لَهُ وَضُوءًا فَجَاءَتْ هِرَّةٌ فَشَرِبَتْ مِنْهُ فَأَصْغَى لَهَا الْإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ، قالت كَبْشَةُ: فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أَخِي؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قال: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ".
کبشہ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، پھر (کبشہ نے) ایک ایسی بات کہی جس کا مفہوم یہ ہے کہ میں نے ان کے لیے وضو کا پانی لا کر ایک برتن میں ڈالا، اتنے میں ایک بلی آئی اور اس سے پینے لگی، تو انہوں نے برتن ٹیڑھا کر دیا یہاں تک کہ اس بلی نے پانی پی لیا، کبشہ کہتی ہیں: تو انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں انہیں (حیرت سے) دیکھ رہی ہوں، تو کہنے لگے: بھتیجی! کیا تم تعجب کر رہی ہو؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ناپاک نہیں ہے، یہ تو تمہارے پاس بکثرت آنے جانے والوں اور آنے جانے والیوں میں سے ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 68]
کبشہ بنت کعب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے، پھر کبشہ رضی اللہ عنہا نے ایسے الفاظ کہے جن کا مطلب یہ ہے کہ میں نے ان کے لیے برتن میں وضو کا پانی ڈالا۔ چنانچہ ایک بلی آئی اور اس سے پانی پینا شروع کر دیا۔ انہوں نے بلی کے لیے برتن جھکا دیا (تاکہ وہ آسانی سے پی لے) بلی نے پانی پی لیا۔ کبشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں (حیرانی سے) ان کی طرف دیکھ رہی ہوں تو کہنے لگے: ”اے بھتیجی! کیا تجھے اس پر تعجب ہے؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں۔“ وہ کہنے لگے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”بلاشبہ بلی پلید نہیں کیونکہ یہ تم پر آنے جانے والے نوکروں اور نوکرانیوں (یا سائلین) کی طرح ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 68]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارہ 38 (75)، سنن الترمذی/فیہ 69 (92)، سنن ابن ماجہ/فیہ 32 (367)، موطا امام مالک/فیہ3 (13)، (تحفة الأشراف: 12141)، مسند احمد 5/296، 303، 309، سنن الدارمی/الطہارة 58 (763)، ویأتي عند المؤلف برقم: (341) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کی مثال ان غلاموں اور خادموں جیسی ہے جو گھروں میں خدمت کے لیے بکثرت آتے جاتے ہیں، چونکہ یہ رات دن گھروں میں پھرتی رہتی ہے اس لیے یہ پاک کر دی گئی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح