🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب : ذكر أعظم الذنب واختلاف يحيى وعبد الرحمن على سفيان في حديث واصل عن أبي وائل عن عبد الله فيه
باب: سب سے بڑے گناہ کا بیان (واصل عن ابی وائل عن عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی سفیان سے روایت کرنے میں یحییٰ اور عبدالرحمٰن کے اختلاف کا ذکر)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4020
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ؟ قَالَ:" الشِّرْكُ: أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا، وَأَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ، وَأَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ الْفَقْرِ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ". ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ سورة الفرقان آية 68. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ , وَالصَّوَابُ الَّذِي قَبْلَهُ، وَحَدِيثُ يَزِيدَ هَذَا خَطَأٌ , إِنَّمَا هُوَ وَاصِلٌ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شرک یعنی یہ کہ تم کسی کو اللہ کے برابر ٹھہراؤ، اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو، اور فقر و فاقہ کے ڈر سے کہ بچہ تمہارے ساتھ کھائے گا تم اپنے بچے کو قتل کر دو، پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی «والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر» اور جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے ہیں۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اس حدیث کی سند میں غلطی ہے، اس سے پہلے والی سند صحیح ہے، یزید کی اس سند میں غلطی ہے (کہ واصل کی بجائے عاصم ہے) صحیح «واصل» ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4020]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شرک، کہ تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک بنائے اور یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے بدکاری کرے۔ اور یہ کہ تو اپنے بچے کو فقر کے ڈر سے مار دے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گا۔ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ﴾ [سورة الفرقان: 68] (اللہ کے بندے وہ ہیں) جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے … الخ۔ امام ابو عبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت (عاصم عن ابی وائل) غلط ہے جبکہ صحیح روایت اس سے پہلی (واصل عن ابی وائل) ہے۔ یزید کی یہ روایت (جس میں اس نے واصل کی بجائے عاصم کہا ہے) غلط ہے۔ اصل میں (عاصم نہیں بلکہ) واصل ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4020]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9279) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4018
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ؟ قَالَ:" أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ". قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ". قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا گناہ بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم کسی کو اللہ کے برابر (ہم پلہ) ٹھہراؤ حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے، میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم اس ڈر سے اپنے بچے کو مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا۔ میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4018]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ تعالیٰ کا شریک بنائے، حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔ میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو اپنے بچے کو اس لیے قتل کر دے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گا۔ میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4018]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیرسورة البقرة 3 (4477)، تفسیرالفرقان 2 (4761)، الأدب20(6001)، الحدود 20 (6811)، الدیات 1 (6861)، التوحید 40 (7520)، 46 (7532)، صحیح مسلم/الإیمان 37 (86)، سنن ابی داود/الطلاق 50 (2310)، سنن الترمذی/تفسیرسورة الفرقان (3182)، (تحفة الأشراف: 9480)، مسند احمد (1/434) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4019
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَاصِلٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ؟ قَالَ:" أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ". قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مِنْ أَجْلِ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ". قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم کسی کو اللہ کے برابر ٹھہراؤ حالانکہ اس نے تم کو پیدا کیا ہے۔ میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم اپنے بچے کو اس وجہ سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا۔ میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4019]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ تعالیٰ کا شریک بنائے، حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔ میں نے کہا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (پھر) یہ کہ تو اپنے بچے کو اس بنا پر قتل کر دے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گا۔ میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (پھر) یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4019]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر الفرقان 2 (4761)، سنن الترمذی/تفسیر سورة الفرقان (3183)، (تحفة الأشراف: 9311)، مسند احمد (1/434، 462، 464) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں