سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب : من شهر سيفه ثم وضعه في الناس
باب: جو تلوار نکال کر لوگوں پر چلانا شروع کر دے۔
حدیث نمبر: 4102
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ شَهَرَ سَيْفَهُ ثُمَّ وَضَعَهُ فَدَمُهُ هَدَرٌ".
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنی تلوار باہر نکال لے پھر اسے چلانا شروع کر دے تو اس کا خون رائیگاں اور بیکار ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4102]
حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تلوار میان سے نکال کر لوگوں پر چلانی شروع کر دے، اس کا خون ضائع ہے۔“ (اس کا قتل جائز ہے۔ اس کی کوئی دیت ہو گی نہ قصاص)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4102]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5262) (صحیح) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی 2345، وتراجع الالبانی 224)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: ناحق مسلمانوں کو مارنے لگے تو اس کے قتل میں نہ دیت ہے نہ قصاص۔
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4104
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ:" مَنْ رَفَعَ السِّلَاحَ ثُمَّ وَضَعَهُ فَدَمُهُ هَدَرٌ".
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس نے ہتھیار اٹھایا اور اسے لوگوں پر چلایا تو اس کا خون رائیگاں اور بیکار ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4104]
حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”جس نے (لوگوں پر) اسلحہ سونتا، پھر اسے چلانا شروع کر دیا تو اس کا خون ضائع ہے۔“ (کوئی معاوضہ ہو گا نہ اس کا قصاص ہی لیا جائے گا)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4104]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4102 (صحیح موقوف)»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن