سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب : كم يعق عن الجارية
باب: لڑکی کی طرف سے کتنی بکریاں ہوں؟
حدیث نمبر: 4223
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ، وَعَنَ الْجَارِيَةِ شَاةٌ، لَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَمْ إِنَاثًا".
ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ہوں گی اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری، نر ہوں یا مادہ اس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب العقيقة/حدیث: 4223]
حضرت ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری (عقیقہ میں) ذبح کی جائے۔ وہ (عقیقے کے جانور) نر ہوں یا مادہ (بکرے ہوں یا بکریاں) کوئی حرج نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب العقيقة/حدیث: 4223]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4220
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، وَمُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فِي الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَفِي الْجَارِيَةِ شَاةٌ".
ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(عقیقہ کے لیے) لڑکے میں دو ہم عمر بکریاں اور لڑکی میں ایک بکری (کافی) ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب العقيقة/حدیث: 4220]
حضرت ام کرز رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ عقیقے سے متعلق احکام و مسائل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکے کی طرف سے دو کامل بکرے ذبح کیے جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک۔“ [سنن نسائي/كتاب العقيقة/حدیث: 4220]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18349) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: لڑکے کی طرف سے دو جانور اور لڑکی کی طرف سے ایک جانور ذبح کرنے کی حکمت یہ ہے کہ بچے کی طرف سے خون بہانا اس کی جان کی بقاء کی خاطر ہے، تو یہ گویا دیت کی طرح ہوا، اور دیت میں نر جان کی دیت مادہ جان سے دگنی ہوتی ہے (کما فی المغنی مسألۃ نمبر ۱۴۷۲) نیز ایک حدیث میں ہے ”جس نے ایک نر جان کو آزاد کیا اس کا ہر عضو جہنم سے آزاد کیا جائے گا، اور جس نے دو ماہ جان کو آزاد کیا اس کو بھی یہی اجر ملے گا۔ (فتح الباری تحت ۵۴۷۱ من کتاب العقیقۃ)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4221
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: قَالَ عَمْرٌو , عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ".
ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(عقیقے کے لیے) لڑکے کی طرف سے دو ہم عمر بکریاں ہوں گی اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری“۔ [سنن نسائي/كتاب العقيقة/حدیث: 4221]
حضرت ام کرز رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکے کی طرف سے دو کامل بکرے ذبح کیے جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک۔“ [سنن نسائي/كتاب العقيقة/حدیث: 4221]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الضحایا 21 (2834)، (تحفة الأشراف: 18352)، مسند احمد (6/322) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4222
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ أَسْأَلُهُ عَنْ لُحُومِ الْهَدْيِ؟ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" عَلَى الْغُلَامِ شَاتَانِ , وَعَلَى الْجَارِيَةِ شَاةٌ لَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَمْ إِنَاثًا".
ام کرز رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں حدیبیہ میں ہدی کے گوشت کے بارے میں پوچھنے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، تو میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ”لڑکا ہونے پر دو بکریاں ہیں اور لڑکی پر ایک بکری، نر ہوں یا مادہ اس سے تم کو کوئی نقصان نہیں ہو گا“۔ [سنن نسائي/كتاب العقيقة/حدیث: 4222]
حضرت ام کرز رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (حدیبیہ میں) حاضر ہوئی تاکہ آپ سے قربانی کے گوشت کے بارے میں پوچھوں۔ میں نے آپ کو فرماتے سنا: ”لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور عقیقے سے متعلق احکام و مسائل لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کرنا لازم ہے۔ کوئی حرج نہیں، مذکر ہوں یا مؤنث۔“ [سنن نسائي/كتاب العقيقة/حدیث: 4222]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الضحایا 21 (2835، 2836)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 1 (3162مختصراً)، (تحفة الأشراف: 18347)، سنن الدارمی/الأضاحي 9 (2011) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن