سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. باب : بيع الفضة بالذهب وبيع الذهب بالفضة
باب: چاندی سونے سے اور سونا چاندی سے بیچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4582
وَفِيمَا قُرِئَ عَلَيْنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاق , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ , وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ , إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ , وَأَمَرَنَا أَنْ نَبْتَاعَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْنَا , وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْنَا".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے بدلے چاندی اور سونے کے بدلے سونا بیچنے سے منع فرمایا، مگر برابر برابر، اور ہمیں حکم دیا کہ چاندی کے بدلے سونا جیسے چاہیں خریدیں اور سونے کے بدلے چاندی جیسے چاہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4582]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”چاندی کے بدلے چاندی اور سونے کے بدلے سونا لینے سے منع کیا ہے الا یہ کہ وہ (باہم) برابر ہوں، البتہ ہمیں اجازت دی کہ ہم چاندی کے بدلے سونا یا سونے کے بدلے چاندی جس طرح چاہیں، کم و بیش لے سکتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4582]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 77 (2175)، 81 (2182)، صحیح مسلم/البیوع 37 (المساقاة16) (1590)، (تحفة الأشراف: 11681)، مسند احمد (3/38، 39) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی کمی و زیادتی کے ساتھ بشرطیکہ نقدا ہو ادھار نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4583
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ الْحَرَّانِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِيعَ الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ إِلَّا عَيْنًا بِعَيْنٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ , وَلَا نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ , إِلَّا عَيْنًا بِعَيْنٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَبَايَعُوا الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْتُمْ , وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْتُمْ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ہم چاندی کے بدلے چاندی بیچیں مگر نقدا نقد اور برابر برابر، اور سونے کے بدلے سونا بیچیں مگر نقدا نقد اور برابر برابر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاندی کے بدلے سونا اور سونے کے بدلے چاندی جیسے چاہو بیچو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4583]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چاندی کو چاندی کے عوض بیچنے سے منع فرمایا مگر جب وہ آپس میں برابر اور نقد ہو۔ اسی طرح سونے کو سونے کے عوض بیچنے سے منع فرمایا الا یہ کہ وہ آپس میں برابر اور نقد ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونے کو چاندی کے عوض جیسے چاہو (کم و بیش) خرید و بیچو اور چاندی کو سونے کے بدلے جیسے چاہو (کم و بیش) خرید و بیچو۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4583]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی کمی و زیادتی کے ساتھ بشرطیکہ نقداً ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن