سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب : ذكر حديث عمرو بن حزم في العقول واختلاف الناقلين له
باب: دیت کے سلسلے میں عمرو بن حزم کی حدیث کا ذکر اور اس کے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 4857
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ كِتَابًا فِيهِ الْفَرَائِضُ وَالسُّنَنُ وَالدِّيَاتُ، وَبَعَثَ بِهِ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، فَقُرِئَتْ عَلَى أَهْلِ الْيَمَنِ هَذِهِ نُسْخَتُهَا:" مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِلَى شُرَحْبِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ , وَنُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ , وَالْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ، قَيْلِ ذِيِ رُعَيْنٍ وَمَعَافِرَ , وَهَمْدَانَ أَمَّا بَعْدُ، وَكَانَ فِي كِتَابِهِ:" أَنَّ مَنِ اعْتَبَطَ مُؤْمِنًا قَتْلًا عَنْ بَيِّنَةٍ , فَإِنَّهُ قَوَدٌ إِلَّا أَنْ يَرْضَى أَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ، وَأَنَّ فِي النَّفْسِ الدِّيَةَ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْأَنْفِ إِذَا أُوعِبَ جَدْعُهُ الدِّيَةُ، وَفِي اللِّسَانِ الدِّيَةُ، وَفِي الشَّفَتَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الْبَيْضَتَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الذَّكَرِ الدِّيَةُ، وَفِي الصُّلْبِ الدِّيَةُ، وَفِي الْعَيْنَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الرِّجْلِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي كُلِّ أُصْبُعٍ مِنْ أَصَابِعِ الْيَدِ وَالرِّجْلِ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَأَنَّ الرَّجُلَ يُقْتَلُ بِالْمَرْأَةِ وَعَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفُ دِينَارٍ". خَالَفَهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ.
عمرو بن حزم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے لیے ایک کتاب لکھی، اس میں فرائض و سنن اور دیتوں کا ذکر کیا، وہ کتاب عمرو بن حزم کے ساتھ بھیجی، چنانچہ وہ اہل یمن کو پڑھ کر سنائی گئی، اس کا مضمون یہ تھا: نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شرحبیل بن عبد کلال، نعیم بن عبد کلال اور حارث بن عبد کلال کے نام جو رعین، معافر اور ہمدان کے والی تھے۔ امابعد، اس کتاب میں لکھا تھا: جو بلا وجہ کسی مومن کو مار ڈالے اور اس کا ثبوت ہو تو اس سے قصاص لیا جائے گا سوائے اس کے کہ مقتول کے اولیاء معاف کر دیں، اور ایک جان کی دیت سو اونٹ ہے۔ ناک پوری کٹ جائے تو پوری دیت ہے، اور زبان میں دیت ہے، دونوں ہونٹوں میں دیت ہے، دونوں فوطوں میں دیت ہے، عضو تناسل میں دیت ہے، پیٹھ میں دیت ہے، آنکھوں میں دیت ہے، ایک پاؤں کی دیت آدھی ہے، جو زخم دماغ تک پہنچے اس میں تہائی دیت ہے۔ جو زخم پیٹ تک پہنچے اس میں تہائی دیت ہے، اور جس زخم سے ہڈی سرک جائے اس میں دیت پندرہ اونٹ ہیں۔ اور ہاتھ پاؤں کی ہر انگلی میں دیت دس اونٹ ہیں۔ دانت میں دیت پانچ اونٹ ہیں، اس زخم میں جس سے ہڈی کھل جائے دیت پانچ اونٹ ہیں، اور مرد عورت کے بدلے قتل کیا جائے اور سونا والے لوگوں پر ہزار دینار ہیں۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) محم بن بکار بن بلال نے اس سے اختلاف کیا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4857]
حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن والوں کی طرف ایک تحریر لکھوا کر بھیجی جس میں فرائض و سنن اور دیت کے مسائل تھے۔ آپ نے وہ تحریر حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے ہاتھ بھیجی تھی۔ وہ اہل یمن کو پڑھ کر سنائی گئی۔ اس کی عبارت یوں تھی: ”یہ تحریر نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شرحبیل بن عبد کلال، نعیم بن عبد کلال اور حارث بن عبد کلال کی طرف ہے، جو ذو رعین، معافر اور ہمدان کے سردار ہیں۔ «أَمَّا بَعْدُ» ”امابعد!“ (اس تحریر میں بہت سی باتیں تھیں) اس تحریر میں یہ بات بھی تھی کہ جو شخص کسی مومن کو بے گناہ قتل کر دے اور گواہ موجود ہوں تو اس کو قصاصاً قتل کر دیا جائے گا الا یہ کہ مقتول کے ورثاء راضی ہو جائیں۔ اور ہر انسانی جان کی دیت سو اونٹ ہے۔ اگر پوری ناک کاٹ دی جائے تو اس میں مکمل دیت (سو اونٹ) ہوگی۔ زبان پوری کاٹ دی جائے تو اس میں بھی پوری دیت ہوگی۔ دونوں ہونٹ کاٹے جانے کی صورت میں بھی پوری دیت ہوگی۔ خصیتین مکمل کاٹ دیے جائیں تو پوری دیت ہوگی۔ ذکر پورا کاٹ دیا جائے تو پوری دیت ہوگی۔ کمر (ریڑھ) کی ہڈی توڑ دی جائے تو پوری دیت ہوگی۔ دونوں آنکھیں پھوڑ یا نکال دی جائیں تو پوری دیت ہوگی۔ ایک پاؤں کی نصف دیت ہوگی۔ دماغ تک پہنچ جانے والے زخم میں تہائی دیت ہوگی۔ پیٹ کے اندر تک پہنچ جانے والے زخم میں تہائی دیت ہوگی۔ ہڈی کو توڑ دینے والے زخم کی دیت پندرہ اونٹ ہوں گے۔ ہاتھ پاؤں کی انگلیوں میں سے ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہوگی۔ ہر دانت کی دیت پانچ اونٹ ہوگی۔ ہڈی کو ننگا کرنے والے زخم کی دیت پانچ اونٹ ہوگی۔ آدمی عورت کو قتل کرے تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔ اگر کوئی شخص سونے کی صورت میں دیت دینا چاہے تو دیت ایک ہزار دینار ہوگی۔“ محمد بن بکار بن بلال نے اس کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4857]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4850 (ضعیف) (اس کے راوی ”سلیمان‘‘ (جو حقیقت میں ’’ابن داود‘‘ نہیں بلکہ ’’ابن ارقم‘‘ ہیں، متروک الحدیث ہیں، صحیح سن دوں سے یہ حدیث زہری سے مرسلاً ہی مروی ہے، بہر حال اس کے اکثر مشمولات کے صحیح شواہد موجود ہیں)»
وضاحت: ۱؎: محمد بن بکار نے حکم بن موسیٰ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے یحییٰ سے انہوں نے سلیمان بن ارقم سے روایت کی ہے، اور یہی صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، سليمان بن داود صوابه سليمان بن أرقم،انظر الحديث الآتي (4858) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 357
حدیث نمبر: 4858
أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ مَرْوَانَ بْنِ الْهَيْثَمِ بْنِ عِمْرَانَ الْعَنْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ، قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ بِكِتَابٍ فِيهِ الْفَرَائِضُ وَالسُّنَنُ وَالدِّيَاتُ، وَبَعَثَ بِهِ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، فَقُرِئَ عَلَى أَهْلِ الْيَمَنِ هَذِهِ نُسْخَتُهُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَفِي الْعَيْنِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ، وَفِي الْيَدِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ، وَفِي الرِّجْلِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَذَا أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ , وَسُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ. وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ مُرْسَلًا.
عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو ایک کتاب لکھی جس میں فرائض، سنن اور دیات کا ذکر تھا۔ اسے عمرو بن حزم کے ساتھ بھیجا، چنانچہ وہ اہل یمن کو پڑھ کر سنائی گئی۔ جس کا مضمون یہ تھا۔ پھر انہوں نے اسی طرح بیان کیا، سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا: ایک آنکھ میں دیت آدھی ہے۔ ایک ہاتھ میں آدھی دیت ہے اور ایک پاؤں میں دیت آدھی ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ روایت زیادہ قرین صواب ہے۔ واللہ اعلم۔ اور سلیمان بن ارقم متروک الحدیث ہیں، اس حدیث کو یونس نے زہری سے مرسلاً روایت کیا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4858]
حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن والوں کی طرف ایک تحریر لکھ کر بھیجی جس میں فرائض و سنن اور دیت کے مسائل تھے۔ آپ نے یہ تحریر حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے ہاتھ بھیجی تھی اور یہ یمن والوں کو پڑھ کر سنائی گئی۔ یہ اس کا مضمون ہے۔ پھر راوی نے سابقہ روایت کی طرح بیان کیا مگر اس نے کہا: ”ایک آنکھ میں نصف دیت (پچاس اونٹ) ہے۔ ایک ہاتھ میں نصف دیت ہے اور ایک پاؤں میں نصف دیت ہے۔“ امام ابوعبدالرحمن (نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ یہ روایت درست ہونے کے زیادہ قریب ہے۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ!» ”اور اللہ بہتر جانتا ہے!“ اور سلیمان بن ارقم متروک الحدیث ہے۔ اور یہی روایت یونس (بن یزید) نے امام زہری رحمہ اللہ سے مرسلاً بیان کی ہے جیسا کہ درج ذیل روایت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4858]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2850 (ضعیف) (سلیمان بن ارقم متروک الحدیث ہیں)»
وضاحت: ۱؎: اور یہی زیادہ صحیح ہے، ان کی روایت آگے آ رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (4857) سليمان بن أرقم ضعيف، (تقريب: 2532) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 358