🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : ذكر أفضل الأعمال
باب: سب سے بہتر عمل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4989
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ:" إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ، وَجِهَادٌ لَا غُلُولَ فِيهِ، وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ".
عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ایسا ایمان جس میں کوئی شک نہ ہو، اور ایسا جہاد جس میں چوری نہ ہو، اور حج مبرور۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4989]
حضرت عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا ایمان جس میں ذرہ بھر شک نہ ہو، وہ جہاد جس میں کسی قسم کی خیانت نہ ہو اور نیک و پاک حج۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4989]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2527 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مقبول حج جس کی نشانی یہ ہے کہ اس کے بعد گناہوں سے بچا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2527
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ، وَجِهَادٌ لَا غُلُولَ فِيهِ، وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ"، قِيلَ: فَأَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" طُولُ الْقُنُوتِ"، قِيلَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" جُهْدُ الْمُقِلِّ"، قِيلَ: فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ هَجَرَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ"، قِيلَ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِينَ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ"، قِيلَ: فَأَيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ؟ قَالَ:" مَنْ أُهَرِيقَ دَمُهُ وَعُقِرَ جَوَادُهُ".
عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سے کام افضل ہیں؟ آپ نے فرمایا: ایسا ایمان جس میں شبہ نہ ہو، جہاد جس میں خیانت نہ ہو، اور حج مبرور، پوچھا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: لمبے قیام والی نماز، پوچھا گیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ صدقہ جو کم مال والا اپنی محنت کی کمائی سے دے، پوچھا گیا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ایسی ہجرت جو اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو چھوڑ دے، پوچھا گیا: کون سا جہاد افضل ہے، آپ نے فرمایا: اس شخص کا جہاد جو مشرکین سے اپنی جان و مال کے ساتھ جہاد کرے، پوچھا گیا: کون سا قتل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: جس میں آدمی کا خون بہا دیا گیا ہو، اور اس کا گھوڑا ہلاک کر دیا گیا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 2527]
حضرت عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا ایمان جس میں کوئی شک نہ رہے، اور ایسا جہاد جس میں کوئی خیانت نہ کی جائے اور نیکی والا صاف ستھرا حج۔ پوچھا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لمبے قیام والی (نفل نماز)۔ پوچھا گیا: صدقہ کون سا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کم مال والے کا مشقت سے کمایا ہوا مال۔ پوچھا گیا: ہجرت کون سی افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی جو اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو چھوڑ دے۔ عرض کیا گیا: جہاد کون سا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کا جس نے اپنے جان و مال کے ساتھ مشرکین سے جہاد کیا۔ عرض کیا گیا: کون سا قتل (مارا جانا) زیادہ شرف والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کی شہادت جس کا اپنا خون بھی بہا دیا گیا اور اس کا گھوڑا بھی مار دیا گیا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 2527]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 314 (1325)، 347 (1449)، مسند احمد 3/412، سنن الدارمی/الصلاة 135 (1431)، ویأتی عند المؤلف برقم4989 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں