🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
82. باب : ذكر ما يستحب من لبس الثياب وما يكره منها
باب: مستحب اور مکروہ لباس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5296
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآنِي سَيِّئَ الْهَيْئَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ مِنْ شَيْءٍ؟" , قَالَ: نَعَمْ، مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِي اللَّهُ، فَقَالَ:" إِذَا كَانَ لَكَ مَالٌ فَلْيُرَ عَلَيْكَ".
ابوالاحوص کے والد عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے مجھے خستہ حالت میں دیکھا، تو فرمایا: کیا تمہارے پاس کچھ مال و دولت ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر طرح کا مال دے رکھا ہے، آپ نے فرمایا: جب تمہارے پاس مال ہو تو اس کے آثار بھی نظر آنے چاہئیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5296]
حضرت ابوالاحوص کے والد محترم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے خراب سی حالت میں دیکھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: کیا تیرے پاس کچھ مال ہے؟ میں نے عرض کیا: ہر قسم کا مال اللہ تعالیٰ نے مجھے دے رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے پاس مال ہے تو تجھ پر نظر بھی آنا چاہیے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5296]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5225 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: فضول خرچی اور ریاء و نمود کے کے بغیر، اور حیثیت کے مطابق آدمی کے اوپر اچھا لباس ہونا چاہیئے، ہاں۔ اسراف، فضول خرچی اور ریاء و نمود والا لباس ناپسندیدہ اور مکروہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5225
أَخْبَرَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَآنِي رَثَّ الثِّيَابِ , فَقَالَ:" أَلَكَ مَالٌ؟" , قُلْتُ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ كُلِّ الْمَالِ، قَالَ:" فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيُرَ أَثَرُهُ عَلَيْكَ".
ابوالاحوص کے والد مالک بن نضلہ جشمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ نے مجھے پھٹے کپڑے پہنے دیکھا تو فرمایا: کیا تمہارے پاس مال و دولت ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! سب کچھ ہے، آپ نے فرمایا: جب تمہیں اللہ تعالیٰ نے سب کچھ دیا ہے تو اس کے آثار بھی تمہارے اوپر ہونے چاہئیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5225]
حضرت ابوالاحوص رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ نے میرے بوحضرت سے کپڑے دیکھے تو فرمایا: کیا تیرے پاس مال ہے؟ میں نے کہا: جی، اے اللہ کے رسول! ہر قسم کا مال ہے۔ آپ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے تجھے مال دیا ہے تو تجھ پر اس کے اثرات نظر آنے چاہئیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5225]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 17 (4063)، (تحفة الٔنشراف: 11203)، مسند احمد (4/137)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5296 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اللہ کی دی ہوئی نعمت کی قدر کرو اور اس کی شکر گزاری کرتے ہوئے فضول خرچی کئے بغیر اسے حسب ضرورت استعمال کرو اور اس میں سے دوسروں کے حقوق ادا کرو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5226
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ دُونٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَكَ مَالٌ" , قَالَ: نَعَمْ، مِنْ كُلِّ الْمَالِ، قَالَ:" مِنْ أَيِّ الْمَالِ؟" قَالَ: قَدْ آتَانِي اللَّهُ مِنَ الْإِبِلِ، وَالْغَنَمِ، وَالْخَيْلِ، وَالرَّقِيقِ، قَالَ:" فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيُرَ عَلَيْكَ أَثَرُ نِعْمَةِ اللَّهِ وَكَرَامَتِهِ".
ابوالاحوص کے والد مالک بن نضلہ جشمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گھٹیا کپڑے پہن کر آئے۔ تو آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس مال و دولت ہے؟ وہ بولے: جی ہاں، سب کچھ ہے۔ آپ نے فرمایا: کس طرح کا مال ہے؟ وہ بولے: اللہ تعالیٰ نے مجھے اونٹ، بکریاں، گھوڑے اور غلام عطا کئے ہیں۔ آپ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال و دولت سے نوازا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے فضل کے تم پر آثار بھی دکھائی دینے چاہیئے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5226]
حضرت ابو الاحوص رحمہ اللہ اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہایت معمولی لباس میں آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تیرے پاس کوئی مال ہے؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! ہر قسم کا مال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کس قسم کا؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اونٹ، گائے، بکریاں، گھوڑے اور غلام سب کچھ عطا فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے تجھے مال دیا ہے تو پھر تجھ پر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے آثار نظر آنے چاہئیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5226]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں