🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب : الاستعاذة من البخل
باب: بخل اور کنجوسی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5449
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ، قَالَ: كَانَ سَعْدٌ يُعَلِّمُ بَنِيهِ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ كَمَا يُعَلِّمُ الْمُعَلِّمُ الْغِلْمَانَ , وَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ بِهِنَّ دُبُرَ الصَّلَاةِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ , وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَحَدَّثْتُ بِهَا مُصْعَبًا فَصَدَّقَهُ".
عمرو بن میمون اودی کہتے ہیں کہ سعد رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں کو یہ کلمات سکھاتے تھے جیسے معلم لڑکوں کو سکھاتا ہے اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد ان کلمات کے ذریعے پناہ مانگتے تھے۔ «اللہم إني أعوذ بك من البخل وأعوذ بك من الجبن وأعوذ بك أن أرد إلى أرذل العمر وأعوذ بك من فتنة الدنيا وأعوذ بك من عذاب القبر» اے اللہ! میں کنجوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں لاچاری اور مجبوری کی عمر کو پہنچوں، میں دنیا کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ پھر میں نے اسے مصعب سے بیان کیا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5449]
حضرت عمرو بن میمون اودی سے مروی ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں کو یہ کلمات اس طرح سکھلاتے تھے جس طرح استاد بچوں کو سبق رٹاتا ہے اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (فرض) نماز کے بعد ان کلمات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» اے اللہ! میں بخل سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ بزدلی سے تیری پناہ حاصل کرتا ہوں۔ اس بات سے بھی پناہ طلب کرتا ہوں کہ مجھے ذلیل ترین عمر میں پہنچایا جائے۔ میں دنیا کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور قبر کے عذاب سے (بچنے کے لیے) میں تیری پناہ حاصل کرتا ہوں۔ (راوی نے کہا) میں نے یہ کلمات (حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے بیٹے) مصعب کو بیان کیے تو انھوں نے تصدیق کی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5449]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 25 (2822)، سنن الترمذی/الدعوات 114 (3567)، (تحفة الأشراف: 3910)، ویأتي عند المؤلف: 5481 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5447
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: كَانَ يُعَلِّمُنَا خَمْسًا كَانَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِنَّ وَيَقُولُهُنَّ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ".
مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ ہمیں پانچ باتیں سکھاتے تھے، کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان الفاظ کے ساتھ دعا مانگتے تھے، آپ فرماتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من البخل وأعوذ بك من الجبن وأعوذ بك أن أرد إلى أرذل العمر وأعوذ بك من فتنة الدنيا وأعوذ بك من عذاب القبر» اے اللہ! میں کنجوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، مجبوری و لاچاری والی عمر تک پہنچنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، دنیا کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5447]
حضرت مصعب بن سعد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارے والد محترم (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) ہمیں پانچ کلمات سکھایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا میں یہ کلمات پڑھا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» اے اللہ! میں بخل سے بچنے کے لیے تیری پناہ میں آتا ہوں، میں بزدلی سے بچنے کے لیے تیری پناہ میں آتا ہوں اور میں اس بات سے بھی تیری پناہ میں آتا ہوں کہ میں ذلیل ترین عمر پاؤں، میں دنیا کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور میں قبر کے عذاب سے بچاؤ کے لیے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5447]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 25 (2822)، الدعوات 37 (6365)، 41 (6370)، 44 (6374)، 56 (6390)، سنن الترمذی/الدعوات 114 (3567)، (تحفة الأشراف: 3932)، مسند احمد (1/183، 186)، والمؤلف برقم: 5480، 5498 و في عمل الیوم وللیلة 53 (132) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5480
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ قَالَ: كَانَ سَعْدٌ يُعَلِّمُهُ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، وَيَرْوِيهِنَّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ".
مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ سعد رضی اللہ عنہ انہیں دعا کے یہ کلمات سکھاتے اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے «اللہم إني أعوذ بك من البخل وأعوذ بك من الجبن وأعوذ بك من أن أرد إلى أرذل العمر وأعوذ بك من فتنة الدنيا وعذاب القبر» اے اللہ! میں بخل و کنجوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں لاچاری و مجبوری کی عمر کو پہنچوں، دنیا کے فتنے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5480]
حضرت مصعب بن سعد سے مروی ہے کہ (والد محترم) حضرت سعد رضی اللہ عنہ اسے یہ کلمات سکھایا کرتے تھے اور انھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» اے اللہ! میں بخل سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ میں بزدلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ میں اس بات سے بھی تیری پناہ میں آتا ہوں کہ مجھے ذلیل ترین میں داخل کیا جائے۔ میں دنیا کے فتنے اور عذابِ قبر سے تیری پناہ حاصل کرتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5480]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5447 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5481
أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ , وَعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ , قَالَا: كَانَ سَعْدٌ يُعَلِّمُ بَنِيهِ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، كَمَا يُعَلِّمُ الْمُكْتِبُ الْغِلْمَانَ , وَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ بِهِنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا , وَعَذَابِ الْقَبْرِ".
مصعب بن سعد اور عمرو بن میمون اودی سے روایت ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں کو یہ کلمات سکھاتے جیسے استاذ بچوں کو سکھاتا ہے، اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہر نماز کے آخر میں انہیں کلمات کے ذریعے پناہ مانگتے تھے «اللہم إني أعوذ بك من البخل وأعوذ بك من الجبن وأعوذ بك من أن أرد إلى أرذل العمر وأعوذ بك من فتنة الدنيا وعذاب القبر» اے اللہ! میں بخل و کنجوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بزدلی و کم ہمتی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، لاچاری و مجبوری کی عمر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور دنیا کے فتنے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5481]
حضرت مصعب بن سعد اور عمرو بن میمون اودی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت سعد رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں کو یہ کلمات اس طرح سکھاتے تھے جس طرح استاد بچوں کو سبق رٹاتا ہے۔ وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر (فرض) نماز کے بعد ان کلمات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» اے اللہ! میں کنجوسی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ میں بزدلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ مجھے ذلیل ترین عمر میں پہنچایا جائے اور دنیا کے فتنے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5481]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5449 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5498
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ يُعَلِّمُنَا خَمْسًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِنَّ، وَيَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ".
مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ہمیں پانچ باتیں سکھاتے تھے جن کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے، آپ کہتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من البخل وأعوذ بك من الجبن وأعوذ بك من أن أرد إلى أرذل العمر وأعوذ بك من عذاب القبر» اے اللہ! میں بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بزدلی و کم ہمتی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، لاچاری و مجبوری کی عمر کو پہنچنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5498]
حضرت مصعب بن سعد رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہمیں وہ پانچ کلمات سکھایا کرتے تھے جنھیں پڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» اے اللہ! میں بخل سے تیری پناہ میں آتا ہوں، میں بزدلی سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں اور اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ مجھے ذلیل ترین عمر میں لے جایا جائے، نیز میں عذابِ قبر سے تیری پناہ کا طالب ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5498]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5447 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں