🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب : ذكر الدلالة على النهى للموصوف من الأوعية
باب: سابقہ مذکور برتنوں کے استعمال کے ممنوع ہونے کے دلائل کا بیان کہ ممانعت تادیبی نہیں بلکہ حتمی تھی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5646
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ: أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، وَابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ، ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7".
عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ نے کدو کی تونبی، لاکھی برتن، روغنی برتن اور لکڑی کے برتن سے منع فرمایا، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا» رسول جو کچھ تمہیں دیں اسے لے لو، اور جس سے تمہیں روکیں، اس سے رک جاؤ (الحشر: ۷)۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5646]
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گواہی دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے برتن، روغنی مٹکے، کھجور کی جڑ کے برتن اور تارکول لگے ہوئے برتن سے منع فرمایا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ [سورة الحشر: 7] رسول اللہ جو کچھ تمہیں دیں، وہ لے لو اور جس چیز سے تمہیں روکیں، اس سے رک جاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5646]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الٔاشربة 6 (1997)، سنن ابی داود/الٔهشربة 7 (3690)، (تحفة الأشراف: 5623) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح دون تلاوة الآية وكأنها مدرجة
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5622
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ، عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ:" حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" , فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: سَمِعْتُ الْيَوْمَ شَيْئًا عَجِبْتُ مِنْهُ، قَالَ: مَا هُوَ؟ قُلْتُ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ؟ فَقَالَ: حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: صَدَقَ ابْنُ عُمَرَ، قُلْتُ: مَا الْجَرُّ؟ قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ مِنْ مَدَرٍ.
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مٹی کے برتن کی نبیذ کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام کیا ہے، میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا۔ میں نے کہا: میں نے آج ایک ایسی بات سنی ہے، جس پر مجھے حیرت ہے۔ وہ بولے: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مٹی کے برتن کی نبیذ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام کیا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سچ کہا، میں نے کہا: «جر» سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا ـ: مٹی سے بنی تمام چیزیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5622]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مٹکے کی نبیذ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دیا ہے۔ پھر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا اور کہا کہ میں نے آج ایک ایسی بات سنی ہے جس پر مجھے بہت تعجب ہوا ہے۔ انہوں نے کہا: وہ کیا بات ہے؟ میں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مٹکے کی نبیذ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دیا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سچ فرمایا۔ میں نے کہا: جی! مٹکے سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: مٹی سے بنا ہوا ہر برتن۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5622]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الّٔشربة 6 (1997)، سنن ابی داود/الٔنشربة 7 (3690)، (تحفة الأشراف: 5649)، مسند احمد (2/104، 112، 153) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5623
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَسُئِلَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ: حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" , وَشَقَّ عَلَيَّ لَمَّا سَمِعْتُهُ , فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ فَجَعَلْتُ أُعَظِّمُهُ، قَالَ: مَا هُوَ؟ قُلْتُ: سُئِلَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ: صَدَقَ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: وَمَا الْجَرُّ؟ قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ صُنِعَ مِنْ مَدَرٍ.
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، ان سے «جر» کی نبیذ کے بابت پوچھا گیا تو بولے: اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کیا ہے، جو کچھ میں نے سنا وہ مجھ پر گراں گزرا۔ چنانچہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک چیز کے بارے میں پوچھا گیا، وہ (ان کا جواب) مجھے بہت برا لگا۔ وہ بولے: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: ان سے «جر» کی نبیذ کے بارے میں پوچھا گیا تھا، تو ابن عباس نے کہا: انہوں نے سچ کہا، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کیا، میں نے کہا: «جر» کیا ہوتا ہے؟ وہ بولے: ہر وہ چیز جو مٹی سے بنائی جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5623]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ ان سے مٹکے کی نبیذ کے بارے میں پوچھا گیا۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دیا ہے۔ میں نے یہ بات سنی تو یہ مجھے بہت شاق گزری۔ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک مسئلہ پوچھا گیا تو میں ان کے جواب پر بہت حیران ہوا ہوں۔ فرمانے لگے: وہ کیا مسئلہ تھا؟ میں نے کہا: ان سے مٹکے کی نبیذ کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: انہوں نے سچ فرمایا؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دیا ہے۔ میں نے کہا: مٹکے سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: مٹی سے بنا ہوا ہر برتن۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5623]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5657) (صحیح لغیرہ)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں