سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. باب : فضل الصلاة لمواقيتها
باب: وقت پر نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 612
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيُّ، سَمِعَهُ مِنْ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قال: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ:" إِقَامُ الصَّلَاةِ لِوَقْتِهَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، اور اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 612]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وقت پر نماز قائم کرنا، والدین سے حسن سلوک کرنا اور اللہ عزوجل کے راستے میں جہاد کرنا۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 612]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 611 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 611
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ الْعَيْزَارِ، قال: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا صَاحِبُ وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ، هَذِهِ الدَّارِ قال: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى؟ قَالَ:" الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا، وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وقت پر نماز پڑھنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 611]
حضرت ابوعمرو شیبانی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”ہمیں اس گھر کے مالک نے بیان فرمایا کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وقت پر نماز پڑھنا، والدین سے حسن سلوک کرنا اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا۔“” [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 611]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 5 (527)، الجھاد 1 (2782)، الأدب 1 (5970)، التوحید 48 (7534)، صحیح مسلم/الإیمان 36 (85)، سنن الترمذی/الصلاة 13 (173)، البر والصلة 2 (1898)، (تحفة الأشراف: 9232)، مسند احمد 1/409، 439، 442، 451، سنن الدارمی/الصلاة 24 (1261) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مختلف احادیث میں مختلف اعمال کو افضل الاعمال (زیادہ بہتر) کہا گیا ہے، اس کی توجیہ بعض لوگوں نے اس طرح کی ہے کہ ان میں «مِن» پوشیدہ ہے یعنی من افضل الاعمال یعنی یہ کام زیادہ فضیلت والے عملوں میں سے ہے یا ان کی فضیلت میں مختلف اقوال، اوقات یا جگہوں کا اعتبار ملحوظ ہے، مثلاً کسی وقت اول وقت نماز پڑھنا افضل ہے، اور کسی وقت جہاد یا حج مبرور افضل ہے، یا مخاطب کے اعتبار سے اعمال کی افضیلت بتائی گئی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه