سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب منه
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 2469
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَتْ وِسَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي يَضْطَجِعُ عَلَيْهَا مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چمڑے کا ایک تکیہ (بستر) تھا جس پر آپ آرام فرماتے تھے اس میں کھجور کی پتلی چھال بھری ہوئی تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2469]
یہ حدیث صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2469]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 6 (2082) (تحفة الأشراف: 17064) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ اس ذات گرامی کی سادہ زندگی کا حال تھا جو سید المرسلین تھے، آج کی پرتکلف زندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سادہ زندگی سے کس قدر مختلف ہے، کاش ہم مسلمان آپ کی اس سادگی کو اپنے لیے نمونہ بنائیں، اور اسے اختیار کریں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح مختصر الشمائل (282)
حدیث نمبر: 1761
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " إِنَّمَا كَانَ فِرَاشُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَنَامُ عَلَيْهِ أَدَمٌ حَشْوُهُ لِيفٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ حَفْصَةَ، وَجَابِرٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس بچھونے پر سوتے تھے وہ چمڑے کا تھا، اس کے اندر کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں حفصہ اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1761]
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں حفصہ اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1761]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرقاق 16 (6456)، صحیح مسلم/اللباس 6 (2082)، سنن ابی داود/ اللباس 45 (4146)، سنن ابن ماجہ/الزہد 11 (4151)، (تحفة الأشراف: 17107)، و مسند احمد (6/48، 56، 73، 108، 107) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (4151)