🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائی حدیث نمبر 3863 کی تخریج
تخریج میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
کتاب
تخریج
صحيح مسلم
4253
كفارة النذر كفارة اليمين
«أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
جامع الترمذي
1528
كفارة النذر إذا لم يسم كفارة يمين
«صحیح مسلم/النذور 5 (1645) ، سنن ابی داود/ الأیمان 31 (3323) ، سنن النسائی/الأیمان 41 (3863) ، سنن ابن ماجہ/الکفارات 17 (2125) ، ( تحفة الأشراف : 9960) ، و مسند احمد (4/144، 146، 147) (صحیح) (لیکن ’’ لم یسم ‘‘ کا لفظ صحیح نہیں ہے، اور یہ مؤلف کے سوا کسی کے یہاں ہے بھی نہیں (جبکہ ابوداود نے اسی کا لحاظ رکھ کر ’’ من نذر نذراً لم یسم ‘‘ کا باب باندھا ہے) یہ مؤلف کے راوی ’’ محمد مولیٰ المغیرہ ‘‘ کا اضافہ ہے جو خود مجہول راوی ہیں، یہ دیگر کی سندوں میں نہیں ہیں)»
قال الشيخ زبير علي زئي:
(1528) إسناده ضعيف ¤ محمد بن يزيد ، مولي المغيره بن شعبة : مجھول الحال (تق: 6398) وحدث مسلم ( 1645) يغني عنه
سنن أبي داود
3323
كفارة النذر كفارة اليمين
« صحیح مسلم/النذر 5 (1645)، سنن الترمذی/النذور 4 (1528)، (تحفة الأشراف: 9960)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الأیمان 40 (3863)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 17 (2125)، مسند احمد (4/144، 146، 147) (صحیح) »
قال الشيخ زبير علي زئي:
صحيح
سنن النسائى الصغرى
3863
كفارة النذر كفارة اليمين
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9936)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ال نذر 5 (1645)، سنن ابی داود/ال نذر 31 (3323)، سنن الترمذی/النذور 4 (1524)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 17 (2126)، مسند احمد (4/144، 146، 147) (صحیح)»
قال الشيخ زبير علي زئي:
إسناده صحيح