لفظ وضاحت و مترادفات
كُلَّمَا
بمعنی جب کبھی ، جب بھی ،کئی امور میں بطور ظرف زمان ماضی سب کا احاطہ کرنے کے لئے آتا ہے۔
متعلقہ اردو لفظ اور اس کے عربی مترادف
جب
جب کہ لیے ”اِذْ“ ، ”اِذَا“ اور ”اذاً“ اور ”لَمَّا“ اور ”كُلَّمَا“ کے الفاظ قرآن میں آئے ہیں۔
روٹ:a
اِذَا
مستقبل میں ظرف زمان کے طور پر آتا ہے اور فعل ماضی پر داخل ہو کر اس میں مضارع کے معنی پیدا کر دیتا ہے۔
جیسے فرمایا :
وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا
”;اور یہ لوگ جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔“
[2-البقرة:14]
روٹ:a
اِذْ
ماضی کے لئے آتا ہے اس کے بعد جملہ ہی آتا ہے یا پھر جملہ محذوف ہوتا ہے۔
قرآن میں ہے :
إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ
”;اور جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں۔“
[81-التكوير:1]
روٹ:a
لَمَّا
ماضی میں شرط کے لئے آتا ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
فَلَمَّا أَنْ جَاءَ الْبَشِيرُ
”;تو جب خوشخبری دینے والا آ پہنچا۔“
[12-يوسف:96]
روٹ:ك ل ل
كُلَّمَا
بمعنی جب کبھی ، جب بھی ،کئی امور میں بطور ظرف زمان ماضی سب کا احاطہ کرنے کے لئے آتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
أَفَكُلَّمَا جَاءَكُمْ رَسُولٌ بِمَا لَا تَهْوَى أَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ
”;تو جب بھی تمہارے پاس کوئی رسول ایسی باتیں لے کر آیا جن کو تمہارا جی نہیں چاہتا تھا تو تم سرکش ہو گئے۔“
[2-البقرة:87]
ماحصل
نمبر
لفظ
مختصر وضاحت
1
اِذَا
مستقبل میں بطور ظرف زمان۔
2
اِذْ
ماضی میں بطور ظرف زمان۔
3
لَمَّا
ماضی میں شرط کے طور پر ظرف زمان۔
4
كُلَّمَا
کئی امور کا احاطہ کرنے کے لئے۔