🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

لفظ وضاحت و مترادفات
سَ ، سَوْفَ
سَ اور سَوْفَ علاؤہ ازیں سَ اور سَوْفَ مضارع پر داخل ہوکر جلدی کا معنی پیدا کر دیتے ہیں۔ اور مضارع کو مستقبل سے مختص کر دیتے ہیں۔ ان دونوں میں صرف یہ فرق ہے کہ س مستقبل قریب کے لئے آتا ہے اور اس کا بمعنی اب سے کیا جاتا ہے۔
متعلقہ اردو لفظ اور اس کے عربی مترادف
جلدی کرنا
جلدی کرنا کے لیے سَرِعَ ، عَجِلَ اور اِسْتَعْجَلَ ، بَدَرَ اور فَوْر ، سَ اور سَوْفَ کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔
روٹ:س ر ع
سَرِعَ
جو کام کرنا ہو اس میں دیر نہ کرنا۔ آج کا کام کل پر نہ چھوڑنا۔ سستی نہ کرنا۔ کام کو وقت پر یا ذرا پہلے کرنا۔ اور یہ صفت محمود ہے۔ اور اس کی ضد بَطَأَ ہے۔ یعنی دیر کرنا ( بوجہ سستی وغیرہ) ہے۔ جہاں جلدی کرنا بہتر اور درست ہو وہاں کرنا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ
”;یہ لوگ ہیں جن کے لیے ان کے کاموں کا حصہ یعنی اجر نیک تیار ہے۔ اور خدا جلد حساب لینے والا اور جلد اجر دینے والا ہے۔“
[2-البقرة:202]
روٹ:ع ج ل
عَجِلَ ، اِسْتَعْجَلَ
کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے حاصل کرنے کی کوشش کرنا، جلد بازی کرنا۔ اور یہ صفت مذموم ہے۔ جہاں جلدی نہ کرنا چاہیے وہاں کرنا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَيَدْعُ الْإِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاءَهُ بِالْخَيْرِ وَكَانَ الْإِنْسَانُ عَجُولًا
”;اور انسان جس طرح (جلدی سے) بھلائی مانگتا ہے اسی طرح برائی مانگتا ہے اور انسان جلد باز (پیدا ہوا) ہے۔“
[17-الإسراء:11]
اور اِسْتَعْجَلَ بمعنی کوئی چیز جلدی یا پیش از وقت طلب کرنا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
”وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ“
اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے تم سے برائی کے جلد خواستگار یعنی طالب عذاب ہیں۔
روٹ:ب د ر
بَدَرَ
کسی کام کے سرانجام دینے میں جتنا وقت درکار ہو۔ اس وقت میں کمی کر کے کام کو پہلے کر لینا۔ حدیث میں ہے : ”لَا تُبَادِرُوْنِي بِالرُّكُوْعِ وَالسُّجُوْد“ [احمد ، ابوداؤد ، ابن ماجه]
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا
”;اور نہ کھاؤ یتیموں کا مال ضرورت سے زیادہ اور حاجت سے پہلے۔“
[4-النساء:6]
روٹ:ف و ر
فَوْر
فَارَ یعنی ابلنا اور جوش مارنا۔ اور فَوْر بمعنی جلدی کرنا۔ کہا جاتا ہے۔ رَجَعَ مِنْ فَوْرِہٖ۔ وہ بلا توقف بہت جلدی واپس ہوا۔ یعنی فورا اسی دم جوش کے ساتھ کوئی کام کرنا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
بَلَى إِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا وَيَأْتُوكُمْ مِنْ فَوْرِهِمْ هَذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ آلَافٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُسَوِّمِينَ
”;ہاں اگر تم دل کو مضبوط رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور کافر تم پر جوش کے ساتھ دفعتا حملہ کردے تو تمہارا پروردگار پانچ ہزار نشان زد فرشتے تمہاری مدد کو بھیجے گا۔“
[3-آل عمران:125]
روٹ:ق و ل
سَ ، سَوْفَ
سَ اور سَوْفَ علاؤہ ازیں سَ اور سَوْفَ مضارع پر داخل ہوکر جلدی کا معنی پیدا کر دیتے ہیں۔ اور مضارع کو مستقبل سے مختص کر دیتے ہیں۔ ان دونوں میں صرف یہ فرق ہے کہ س مستقبل قریب کے لئے آتا ہے اور اس کا بمعنی اب سے کیا جاتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ ...
”;اب احمق لوگ (یہ )کہیں گے۔“
[2-البقرة:142]
----------------
سَوْفَ
اور «سَوْفَ» کا زمانہ لمبا ہوتا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ
ہرگز نہیں تم جلد ہی جان لو گے۔
[102-التكاثر:3]

ماحصل
نمبر
لفظ
مختصر وضاحت
1
سَرِعَ
کام کو مناسب وقت سے ذرا پہلے سرانجام دینا۔
2
عَجِلَ ، اِسْتَعْجَلَ
جلد بازی ، کسی چیز کو اس کے مناسب وقت سے پہلے حاصل کرنے کی کوشش کرنا کہ وہ صحیح طور پر ادا نہ ہو۔
3
بَدَرَ
کام کے مطلوبہ وقت میں کمی کرکے جلدی کرنا۔
4
فَوْر
اسی دم جوش سے کوئی کام کرنا۔
5
سَ ، سَوْفَ
مضارع پر داخل ہو کر اس میں جلدی کا بمعنی پیدا کر دیتے ہیں۔ جیسے ”سَيَقُولُ“