Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن مجيد
سورة يوسف
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آیت تفسیر
1
الر تلك آيات الكتاب المبين
الر۔ یہ واضح کتاب کی آیات ہیں۔
2
إنا أنزلناه قرآنا عربيا لعلكم تعقلون
بے شک ہم نے اسے عربی قرآن بنا کر نازل کیا ہے، تا کہ تم سمجھو۔
ابن کثیر ↑
3
نحن نقص عليك أحسن القصص بما أوحينا إليك هذا القرآن وإن كنت من قبله لمن الغافلين
ہم تجھے سب سے اچھا بیان سناتے ہیں، اس واسطے سے کہ ہم نے تیری طرف یہ قرآن وحی کیا ہے اور بے شک تو اس سے پہلے یقینا بے خبروں سے تھا۔
ابن کثیر ↑
4
إذ قال يوسف لأبيه يا أبت إني رأيت أحد عشر كوكبا والشمس والقمر رأيتهم لي ساجدين
جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ! بے شک میں نے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے، میں نے انھیں دیکھا کہ مجھے سجدہ کرنے والے ہیں۔
5
قال يا بني لا تقصص رؤياك على إخوتك فيكيدوا لك كيدا إن الشيطان للإنسان عدو مبين
اس نے کہا اے میرے چھوٹے بیٹے! اپنا خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا، ورنہ وہ تیرے لیے تدبیر کریں گے، کوئی بری تدبیر۔ بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔
6
وكذلك يجتبيك ربك ويعلمك من تأويل الأحاديث ويتم نعمته عليك وعلى آل يعقوب كما أتمها على أبويك من قبل إبراهيم وإسحاق إن ربك عليم حكيم
اور اسی طرح تیرا رب تجھے چنے گا اور تجھے باتوں کی اصل حقیقت سمجھنے میں سے کچھ سکھائے گا اور اپنی نعمت تجھ پر اور آل یعقوب پر پوری کرے گا، جیسے اس نے اس سے پہلے وہ تیرے دونوں باپ دادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی۔ بے شک تیرا رب سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
7
لقد كان في يوسف وإخوته آيات للسائلين
بلاشبہ یقینا یوسف اور اس کے بھائیوں میں سوال کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں تھیں۔
8
إذ قالوا ليوسف وأخوه أحب إلى أبينا منا ونحن عصبة إن أبانا لفي ضلال مبين
جب انھوں نے کہا یقینا یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کے ہاں ہم سے زیادہ پیارے ہیں، حالانکہ ہم ایک قوی جماعت ہیں۔ بے شک ہمارا باپ یقینا کھلی غلطی میں ہے۔
ابن کثیر ↑
9
اقتلوا يوسف أو اطرحوه أرضا يخل لكم وجه أبيكم وتكونوا من بعده قوما صالحين
یوسف کو قتل کر دو، یا اسے کسی زمین میں پھینک دو، تمھارے باپ کا چہرہ تمھارے لیے اکیلا رہ جائے گا اور اس کے بعد تم نیک لوگ بن جانا۔
ابن کثیر ↑
10
قال قائل منهم لا تقتلوا يوسف وألقوه في غيابت الجب يلتقطه بعض السيارة إن كنتم فاعلين
ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا یوسف کو قتل نہ کرو اور اسے کسی اندھے کنویں کی گہرائی میں پھینک دو، کوئی راہ چلتا قافلہ اسے اٹھا لے گا ، اگر تم کرنے ہی والے ہو۔
ابن کثیر ↑
11
قالوا يا أبانا ما لك لا تأمنا على يوسف وإنا له لناصحون
انھوں نے کہا اے ہمارے باپ! تجھے کیا ہے کہ تو یوسف کے بارے میں ہم پر اعتبار نہیں کرتا، حالانکہ بے شک ہم یقینا اس کے خیرخواہ ہیں۔
12
أرسله معنا غدا يرتع ويلعب وإنا له لحافظون
اسے کل ہمارے ساتھ بھیج کہ چرے چگے اور کھیلے کودے اور بے شک ہم ضرور اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
ابن کثیر ↑
13
قال إني ليحزنني أن تذهبوا به وأخاف أن يأكله الذئب وأنتم عنه غافلون
اس نے کہا بے شک میں، یقینا مجھے یہ بات غمگین کرتی ہے کہ تم اسے لے جائو اور میں ڈرتا ہوں کہ اسے کوئی بھیڑیا کھا جائے اور تم اس سے غافل ہو۔
14
قالوا لئن أكله الذئب ونحن عصبة إنا إذا لخاسرون
انھوں نے کہا واقعی اگر اسے بھیڑیا کھاجائے، حالانکہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں تو بلاشبہ ہم اس وقت یقینا خسارہ اٹھانے والے ہوں گے۔
ابن کثیر ↑
15
فلما ذهبوا به وأجمعوا أن يجعلوه في غيابت الجب وأوحينا إليه لتنبئنهم بأمرهم هذا وهم لا يشعرون
پھر جب وہ اسے لے گئے اور انھوں نے طے کرلیا کہ اسے ایک اندھے کنویں کی گہرائی میں ڈال دیں اور ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ تو ضرور ہی انھیں ان کے اس کام کی خبر دے گا، اس حال میں کہ وہ سوچتے نہ ہوں گے۔
16
وجاءوا أباهم عشاء يبكون
اور وہ اپنے باپ کے پاس اندھیرا پڑے روتے ہوئے آئے۔
17
قالوا يا أبانا إنا ذهبنا نستبق وتركنا يوسف عند متاعنا فأكله الذئب وما أنت بمؤمن لنا ولو كنا صادقين
کہا اے ہمارے باپ! بے شک ہم دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلتے چلے گئے اور ہم نے یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تو اسے کوئی بھیڑیا کھا گیا اور تو ہر گز ہمارا اعتبار کرنے والا نہیں، خواہ ہم سچے ہوں۔
ابن کثیر ↑
18
وجاءوا على قميصه بدم كذب قال بل سولت لكم أنفسكم أمرا فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون
اور وہ اس کی قمیص پر ایک جھوٹا خون لگا لائے۔ اس نے کہا بلکہ تمھارے لیے تمھارے دلوں نے ایک کام مزین بنا دیا ہے، سو (میرا کام) اچھا صبر ہے اور اللہ ہی ہے جس سے اس پر مدد مانگی جاتی ہے جو تم بیان کرتے ہو۔
ابن کثیر ↑
19
وجاءت سيارة فأرسلوا واردهم فأدلى دلوه قال يا بشرى هذا غلام وأسروه بضاعة والله عليم بما يعملون
اور ایک راہ چلتا قافلہ آیا تو انھوں نے اپنے پانی لانے والے کو بھیجا، سو اس نے اپنا ڈول لٹکایا۔ کہا اوہ! خوشخبری ہو! یہ ایک لڑکا ہے۔ اور انھوں نے اسے سامان تجارت بناکر چھپا لیا اور اللہ خوب جاننے والا ہے جو وہ کر رہے تھے۔
20
وشروه بثمن بخس دراهم معدودة وكانوا فيه من الزاهدين
اور انھوں نے اسے تھوڑی قیمت، چند گنے ہوئے درہموں میں بیچ دیا اور وہ اس میں رغبت نہ رکھنے والوں سے تھے۔
ابن کثیر ↑
21
وقال الذي اشتراه من مصر لامرأته أكرمي مثواه عسى أن ينفعنا أو نتخذه ولدا وكذلك مكنا ليوسف في الأرض ولنعلمه من تأويل الأحاديث والله غالب على أمره ولكن أكثر الناس لا يعلمون
اور جس شخص نے اسے مصر سے خریدا اس نے اپنی بیوی سے کہا اس کی رہائش باعزت رکھ، ہوسکتا ہے کہ ہمیں فائدہ دے، یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔ اور اسی طرح ہم نے یوسف کو اس زمین میں جگہ دی اور تاکہ ہم اسے باتوں کی اصل حقیقت میں سے کچھ سکھائیں اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
22
ولما بلغ أشده آتيناه حكما وعلما وكذلك نجزي المحسنين
اور جب وہ اپنی پوری جوانی کو پہنچا تو ہم نے اسے بڑا حکم اور بڑا علم عطا کیا اور ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔
ابن کثیر ↑
23
وراودته التي هو في بيتها عن نفسه وغلقت الأبواب وقالت هيت لك قال معاذ الله إنه ربي أحسن مثواي إنه لا يفلح الظالمون
اور اس عورت نے، جس کے گھر میں وہ تھا، اسے اس کے نفس سے پھسلایا اور دروازے اچھی طرح بند کرلیے اور کہنے لگی جلدی آ۔ اس نے کہا اللہ کی پناہ، بے شک وہ میرا مالک ہے، اس نے میرا ٹھکانا اچھا بنایا۔ بلاشبہ حقیقت یہ ہے کہ ظالم فلاح نہیں پاتے۔
24
ولقد همت به وهم بها لولا أن رأى برهان ربه كذلك لنصرف عنه السوء والفحشاء إنه من عبادنا المخلصين
اور بلاشبہ یقینا وہ اس کے ساتھ ارادہ کر چکی تھی اور وہ بھی اس عورت کے ساتھ ارادہ کر لیتا اگر یہ نہ ہوتا کہ اس نے اپنے رب کی دلیل دیکھ لی۔ اسی طرح ہوا، تاکہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی کو ہٹا دیں۔ بے شک وہ ہمارے خالص کیے ہوئے بندوں سے تھا۔
25
واستبقا الباب وقدت قميصه من دبر وألفيا سيدها لدى الباب قالت ما جزاء من أراد بأهلك سوءا إلا أن يسجن أو عذاب أليم
اور دونوں دروازے کی طرف دوڑے اور اس عورت نے اس کی قمیص پیچھے سے پھاڑ دی اور دونوں نے اس کے خاوند کو دروازے کے پاس پایا، اس عورت نے کہا کیا جزا ہے اس کی جس نے تیری گھر والی کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا، سوائے اس کے کہ اسے قید کیا جائے، یا دردناک سزا ہو۔
26
قال هي راودتني عن نفسي وشهد شاهد من أهلها إن كان قميصه قد من قبل فصدقت وهو من الكاذبين
اس (یوسف)نے کہا اسی نے مجھے میرے نفس سے پھسلایا ہے اور اس عورت کے گھر والوں سے ایک گواہ نے گواہی دی اگر اس کی قمیص آگے سے پھاڑی گئی ہو تو عورت نے سچ کہا اور یہ جھوٹوں سے ہے۔
ابن کثیر ↑
27
وإن كان قميصه قد من دبر فكذبت وهو من الصادقين
اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھاڑی گئی ہو تو عورت نے جھوٹ کہا اور یہ سچوں سے ہے۔
ابن کثیر ↑
28
فلما رأى قميصه قد من دبر قال إنه من كيدكن إن كيدكن عظيم
تو جب اس نے اس کی قمیص دیکھی کہ پیچھے سے پھاڑی گئی ہے تو اس نے کہا یقینا یہ تم عورتوں کے فریب سے ہے، بے شک تم عورتوں کا فریب بہت بڑا ہے۔
ابن کثیر ↑
29
يوسف أعرض عن هذا واستغفري لذنبك إنك كنت من الخاطئين
یوسف! اس معاملے سے درگزر کر اور (اے عورت!) تو اپنے گناہ کی معافی مانگ، یقینا تو ہی خطا کاروں سے تھی۔
ابن کثیر ↑
30
وقال نسوة في المدينة امرأت العزيز تراود فتاها عن نفسه قد شغفها حبا إنا لنراها في ضلال مبين
اور شہر میں کچھ عورتوں نے کہا عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اس کے نفس سے پھسلاتی ہے، بلاشبہ وہ محبت کی روسے اس کے دل کے اندر داخل ہو چکا ہے۔ بے شک ہم تو اسے صریح غلطی پر دیکھتی ہیں۔
31
فلما سمعت بمكرهن أرسلت إليهن وأعتدت لهن متكأ وآتت كل واحدة منهن سكينا وقالت اخرج عليهن فلما رأينه أكبرنه وقطعن أيديهن وقلن حاش لله ما هذا بشرا إن هذا إلا ملك كريم
تو جب اس عورت نے ان کے فریب کے بارے میں سنا تو ان کی طرف پیغام بھیجا اور ان کے لیے ایک تکیہ دار مجلس تیار کی اور ان میں سے ہر ایک کو ایک چھری دے دی اور کہا ان کے سامنے نکل۔ پھر جب انھوں نے اسے دیکھا تو اسے بہت بڑا پایا اور انھوں نے اپنے ہاتھ بری طرح کاٹ ڈالے اور کہا اللہ کی پناہ! یہ کوئی آدمی نہیں ہے، یہ نہیں ہے مگر کوئی نہایت معزز فرشتہ۔
ابن کثیر ↑
32
قالت فذلكن الذي لمتنني فيه ولقد راودته عن نفسه فاستعصم ولئن لم يفعل ما آمره ليسجنن وليكونا من الصاغرين
اس عورت نے کہا تو وہ یہی ہے جس کے بارے میں تم نے مجھے ملامت کی تھی اور بلاشبہ یقینا میں نے اسے اس کے نفس سے پھسلایا،مگر یہ صاف بچ گیا اور واقعی اگر اس نے وہ نہ کیا جو میں اسے حکم دیتی ہوں تو اسے ضرور ہی قید کیا جائے گا اور یہ ضرور ہی ذلیل ہونے والوں سے ہوگا۔
ابن کثیر ↑
33
قال رب السجن أحب إلي مما يدعونني إليه وإلا تصرف عني كيدهن أصب إليهن وأكن من الجاهلين
اس نے کہا اے میرے رب! مجھے قید خانہ اس سے زیادہ محبوب ہے جس کی طرف یہ سب مجھے دعوت دے رہی ہیں اور اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہو جائوں گا اور جاہلوں سے ہو جاؤں گا۔
ابن کثیر ↑
34
فاستجاب له ربه فصرف عنه كيدهن إنه هو السميع العليم
تو اس کے رب نے اس کی دعا قبول کر لی، پس اس سے ان (عورتوں) کا فریب ہٹا دیا۔ بے شک وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
ابن کثیر ↑
35
ثم بدا لهم من بعد ما رأوا الآيات ليسجننه حتى حين
پھر اس کے بعد کہ وہ کئی نشانیاں دیکھ چکے، ان کے سامنے یہ بات آئی کہ اسے ایک وقت تک ضرور ہی قید کر دیں۔
36
ودخل معه السجن فتيان قال أحدهما إني أراني أعصر خمرا وقال الآخر إني أراني أحمل فوق رأسي خبزا تأكل الطير منه نبئنا بتأويله إنا نراك من المحسنين
اور قید خانے میں اس کے ساتھ دو جوان داخل ہوئے، دونوں سے ایک نے کہا بے شک میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ کچھ شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا بے شک میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ میں اپنے سر پر کچھ روٹی اٹھائے ہوئے ہوں، جس سے پرندے کھا رہے ہیں، ہمیں اسکی تعبیر بتا۔ بے شک ہم تجھے احسان کرنے والوں سے دیکھتے ہیں۔
37
قال لا يأتيكما طعام ترزقانه إلا نبأتكما بتأويله قبل أن يأتيكما ذلكما مما علمني ربي إني تركت ملة قوم لا يؤمنون بالله وهم بالآخرة هم كافرون
اس نے کہا تمھارے پاس وہ کھانا نہیں آئے گا جو تمھیں دیا جاتا ہے، مگر میں تمھیں اس کی تعبیر اس سے پہلے بتا دوں گا کہ وہ تمھارے پاس آئے۔ یہ اس میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھایا۔ بے شک میں نے اس قوم کا دین چھوڑ دیا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت کے ساتھ بھی کفر کرنے والے ہیں۔
38
واتبعت ملة آبائي إبراهيم وإسحاق ويعقوب ما كان لنا أن نشرك بالله من شيء ذلك من فضل الله علينا وعلى الناس ولكن أكثر الناس لا يشكرون
اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی کی ہے، ہمارے لیے ممکن ہی نہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں، یہ ہم پر اور لوگوں پر اللہ کے فضل سے ہے اور لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔
ابن کثیر ↑
39
يا صاحبي السجن أأرباب متفرقون خير أم الله الواحد القهار
اے قید خانے کے دو ساتھیو! کیا الگ الگ رب بہتر ہیں یا اللہ، جو اکیلا ہے، نہایت زبردست ہے؟
40
ما تعبدون من دونه إلا أسماء سميتموها أنتم وآباؤكم ما أنزل الله بها من سلطان إن الحكم إلا لله أمر ألا تعبدوا إلا إياه ذلك الدين القيم ولكن أكثر الناس لا يعلمون
تم اس کے سوا عبادت نہیں کرتے مگر چند ناموں کی، جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کے بارے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ حکم اللہ کے سوا کسی کا نہیں، اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا اور کسی کی عبادت مت کرو، یہی سیدھا دین ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
ابن کثیر ↑
41
يا صاحبي السجن أما أحدكما فيسقي ربه خمرا وأما الآخر فيصلب فتأكل الطير من رأسه قضي الأمر الذي فيه تستفتيان
اے قید خانے کے دو ساتھیو! تم میں سے جو ایک ہے سو وہ اپنے مالک کو شراب پلائے گا اور جو دوسرا ہے سو اسے سولی دی جائے گی، پس پرندے اس کے سر میں سے کھائیں گے۔ اس کام کا فیصلہ کر دیا گیا جس کے بارے میں تم پوچھ رہے ہو۔
42
وقال للذي ظن أنه ناج منهما اذكرني عند ربك فأنساه الشيطان ذكر ربه فلبث في السجن بضع سنين
اور اس نے اس سے کہا جس کے متعلق اس نے سمجھا تھا کہ وہ دونوں میں سے رہا ہونے والا ہے کہ اپنے مالک کے پاس میرا ذکر کرنا۔ تو شیطان نے اسے اس کے مالک سے ذکر کرنا بھلا دیا تو وہ کئی سال قید خانے میں رہا۔
43
وقال الملك إني أرى سبع بقرات سمان يأكلهن سبع عجاف وسبع سنبلات خضر وأخر يابسات يا أيها الملأ أفتوني في رؤياي إن كنتم للرؤيا تعبرون
اور بادشاہ نے کہا بے شک میں سات موٹی گائیں دیکھتا ہوں، جنھیں سات دبلی کھا رہی ہیں اور سات سبز خوشے اور کچھ دوسرے خشک (دیکھتا ہوں)، اے سردارو! مجھے میرے خواب کے بارے بتائو، اگر تم خواب کی تعبیر کیا کرتے ہو۔
44
قالوا أضغاث أحلام وما نحن بتأويل الأحلام بعالمين
انھوں نے کہا یہ خوابوں کی پریشان باتیں ہیں اور ہم ایسے خوابوں کی تعبیر بالکل جاننے والے نہیں۔
ابن کثیر ↑
45
وقال الذي نجا منهما وادكر بعد أمة أنا أنبئكم بتأويله فأرسلون
اور ان دونوں میں سے جو رہا ہوا تھا اور اسے ایک مدت کے بعد یاد آیا، اس نے کہا میں تمھیں اس کی تعبیر بتاتا ہوں، سو مجھے بھیجو۔
ابن کثیر ↑
46
يوسف أيها الصديق أفتنا في سبع بقرات سمان يأكلهن سبع عجاف وسبع سنبلات خضر وأخر يابسات لعلي أرجع إلى الناس لعلهم يعلمون
یوسف! اے نہایت سچے! ہمیں سات موٹی گائیوں کی تعبیر بتا، جنھیں سات دبلی کھا رہی ہیں اور سات سبز خوشوں اور دوسرے خشک خوشوں کی بھی، تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جاؤں، تاکہ وہ جان لیں۔
ابن کثیر ↑
47
قال تزرعون سبع سنين دأبا فما حصدتم فذروه في سنبله إلا قليلا مما تأكلون
اس نے کہا تم سات سال پے درپے کاشت کرو گے تو جو کاٹو اسے اس کے خوشے میں رہنے دو، مگر تھوڑا سا وہ جو تم کھالو۔
ابن کثیر ↑
48
ثم يأتي من بعد ذلك سبع شداد يأكلن ما قدمتم لهن إلا قليلا مما تحصنون
پھر اس کے بعد بہت سخت سات برس آئیں گے، جو کھا جائیں گے جو کچھ تم نے ان کے لیے پہلے رکھا ہوگا مگر تھوڑا سا وہ جو تم محفوظ رکھو گے۔
ابن کثیر ↑
49
ثم يأتي من بعد ذلك عام فيه يغاث الناس وفيه يعصرون
پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگوں پر بارش ہوگی اور وہ اس میں نچوڑیں گے۔
ابن کثیر ↑
50
وقال الملك ائتوني به فلما جاءه الرسول قال ارجع إلى ربك فاسأله ما بال النسوة اللاتي قطعن أيديهن إن ربي بكيدهن عليم
اور بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لائو، تو جب قاصد اس کے پاس آیا تو اس نے کہا اپنے مالک کے پاس واپس جا، پھر اس سے پوچھ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے، یقینا میرا رب ان کے فریب کو خوب جاننے والا ہے۔