🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن مجيد
سورة الزمر
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آیت تفسیر
1
تنزيل الكتاب من الله العزيز الحكيم
اس کتاب کا اتارنا اللہ کی طرف سے ہے جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
2
إنا أنزلنا إليك الكتاب بالحق فاعبد الله مخلصا له الدين
بلاشبہ ہم نے تیری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ نازل کی، پس اللہ کی عبادت اس طرح کر کہ تو دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والا ہو۔
ابن کثیر ↑
3
ألا لله الدين الخالص والذين اتخذوا من دونه أولياء ما نعبدهم إلا ليقربونا إلى الله زلفى إن الله يحكم بينهم في ما هم فيه يختلفون إن الله لا يهدي من هو كاذب كفار
خبردار! خالص دین صرف اللہ ہی کا حق ہے اوروہ لوگ جنہوں نے اس کے سوا اور حمایتی بنا رکھے ہیں (وہ کہتے ہیں) ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لیے کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں، اچھی طرح قریب کرنا۔ یقیناً اللہ ان کے درمیان اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ بے شک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا ہو، بہت ناشکرا ہو۔
ابن کثیر ↑
4
لو أراد الله أن يتخذ ولدا لاصطفى مما يخلق ما يشاء سبحانه هو الله الواحد القهار
اگر اللہ چاہتا کہ (کسی کو) اولاد بنائے تو ان میں سے جنھیں وہ پیدا کرتا ہے جسے چاہتا ضرور چن لیتا، وہ پاک ہے۔ وہ تو اللہ ہے، جو اکیلا ہے، بہت غلبے والا ہے۔
ابن کثیر ↑
5
خلق السماوات والأرض بالحق يكور الليل على النهار ويكور النهار على الليل وسخر الشمس والقمر كل يجري لأجل مسمى ألا هو العزيز الغفار
اس نے آسمانوںکو اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا، وہ رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو تابعکر رکھا ہے، ہر ایک ایک مقرر وقت کے لیے چل رہا ہے۔ سن لو! وہی سب پر غالب، نہایت بخشنے والا ہے۔
6
خلقكم من نفس واحدة ثم جعل منها زوجها وأنزل لكم من الأنعام ثمانية أزواج يخلقكم في بطون أمهاتكم خلقا من بعد خلق في ظلمات ثلاث ذلكم الله ربكم له الملك لا إله إلا هو فأنى تصرفون
اس نے تمھیں ایک جا ن سے پیدا کیا، پھر اس سے اس کا جوڑا بنایا اور تمھارے لیے چوپاؤں میں سے آٹھ قسمیں (نر و مادہ)اتاریں۔ وہ تمھیں تمھاری ماؤں کے پیٹوں میں، تین اندھیروں میں، ایک پیدائش کے بعد دوسری پیدائش میں پیدا کرتا ہے۔ یہی اللہ تمھارا رب ہے، اسی کی بادشاہی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر تم کس طرح پھیرے جاتے ہو۔
ابن کثیر ↑
7
إن تكفروا فإن الله غني عنكم ولا يرضى لعباده الكفر وإن تشكروا يرضه لكم ولا تزر وازرة وزر أخرى ثم إلى ربكم مرجعكم فينبئكم بما كنتم تعملون إنه عليم بذات الصدور
اگر تم نا شکری کر و تو یقینا اللہ تم سے بہت بے پروا ہے اور وہ اپنے بندوں کے لیے ناشکری پسند نہیںکرتااوراگر تم شکر کرو تووہ اسے تمھارے لیے پسندکرے گا اور کوئی بوجھ اٹھانے والی (جان) کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی، پھر تمھارا لوٹنا تمھارے رب ہی کی طرف ہے تو وہ تمھیں بتلائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔ یقینا وہ سینوں والی بات کو خوب جاننے والا ہے ۔
8
وإذا مس الإنسان ضر دعا ربه منيبا إليه ثم إذا خوله نعمة منه نسي ما كان يدعو إليه من قبل وجعل لله أندادا ليضل عن سبيله قل تمتع بكفرك قليلا إنك من أصحاب النار
اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے، اس حال میں کہ اس کی طرف رجوع کرنے والا ہو تا ہے۔ پھر جب وہ اسے اپنی طرف سے کو ئی نعمت عطا کرتا ہے تو وہ اس (مصیبت) کو بھول جاتا ہے، جس کی جانب وہ اس سے پہلے پکارا کرتا تھااور اللہ کے لیے کئی شریک بنا لیتا ہے، تاکہ اس کے راستے سے گمرا ہ کردے۔ کہہ دے اپنی ناشکری سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لے، یقینا تو آگ والوں میں سے ہے۔
ابن کثیر ↑
9
أمن هو قانت آناء الليل ساجدا وقائما يحذر الآخرة ويرجو رحمة ربه قل هل يستوي الذين يعلمون والذين لا يعلمون إنما يتذكر أولو الألباب
(کیا یہ بہترہے) یا وہ شخص جو رات کی گھڑیوں میں سجدہ کرتے ہوئے اور قیا م کر تے ہوئے عبادت کرنے والا ہے، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہے؟ کہہ دے کیا برابر ہیں وہ لوگ جو جانتے ہیں اور وہ جو نہیں جانتے؟ نصیحت تو بس عقلوں والے ہی قبول کرتے ہیں۔
10
قل يا عباد الذين آمنوا اتقوا ربكم للذين أحسنوا في هذه الدنيا حسنة وأرض الله واسعة إنما يوفى الصابرون أجرهم بغير حساب
کہہ دے اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو! اپنے رب سے ڈرو، ان لوگوں کے لیے جنھوں نے اس دنیا میں نیکی کی، بڑی بھلائی ہے اور اللہ کی زمین وسیع ہے، صرف کامل صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر کسی شمار کے بغیر دیا جائے گا۔
11
قل إني أمرت أن أعبد الله مخلصا له الدين
کہہ دے بے شک مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں، اس حال میں کہ دین کو اسی کے لیے خالص کر نے والا ہوں۔
ابن کثیر ↑
12
وأمرت لأن أكون أول المسلمين
اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ماننے والوں میں سے پہلا میں بنوں۔
ابن کثیر ↑
13
قل إني أخاف إن عصيت ربي عذاب يوم عظيم
کہہ دے بے شک میں ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں۔
14
قل الله أعبد مخلصا له ديني
کہہ دے میں اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں، اس حال میں کہ اسی کے لیے اپنے دین کو خالص کرنے والا ہوں۔
ابن کثیر ↑
15
فاعبدوا ما شئتم من دونه قل إن الخاسرين الذين خسروا أنفسهم وأهليهم يوم القيامة ألا ذلك هو الخسران المبين
تو تم اس کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو ۔کہہ دے بے شک اصل خسارہ اٹھانے والے تو وہ ہیں جنھوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا۔ سن لو! یہی صریح خسارہ ہے۔
ابن کثیر ↑
16
لهم من فوقهم ظلل من النار ومن تحتهم ظلل ذلك يخوف الله به عباده يا عباد فاتقون
ان کے لیے ان کے اوپر سے آگ کے سائبان ہوں گے اور ان کے نیچے سے بھی سائبان ہوں گے۔ یہ ہے وہ جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، اے میرے بندو! پس تم مجھ سے ڈرو۔
ابن کثیر ↑
17
والذين اجتنبوا الطاغوت أن يعبدوها وأنابوا إلى الله لهم البشرى فبشر عباد
اور وہ لوگ جنھوں نے طا غوت سے اجتناب کیا کہ اس کی عبادت کریں اور اللہ کی طرف رجوع کیا انھی کے لیے خوش خبری ہے، سو میرے بندوں کو بشارت دے دے ۔
18
الذين يستمعون القول فيتبعون أحسنه أولئك الذين هداهم الله وأولئك هم أولو الألباب
کان لگا کر بات سنتے ہیں، پھر اس میں سب سے اچھی بات کی پیروی کرتے ہیں ۔یہی لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت دی اور یہی عقلوں والے ہیں۔
ابن کثیر ↑
19
أفمن حق عليه كلمة العذاب أفأنت تنقذ من في النار
تو کیا وہ شخص جس پر عذاب کی بات ثابت ہو چکی، پھر کیا تو اسے بچا لے گا جو آگ میں ہے۔
20
لكن الذين اتقوا ربهم لهم غرف من فوقها غرف مبنية تجري من تحتها الأنهار وعد الله لا يخلف الله الميعاد
لیکن وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈر گئے، ان کے لیے بالاخانے ہیں، جن کے اوپر خوب بنائے ہوئے بالاخانے ہیں، جن کے نیچے سے نہریں بہ رہی ہیں۔ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔
ابن کثیر ↑
21
ألم تر أن الله أنزل من السماء ماء فسلكه ينابيع في الأرض ثم يخرج به زرعا مختلفا ألوانه ثم يهيج فتراه مصفرا ثم يجعله حطاما إن في ذلك لذكرى لأولي الألباب
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے کچھ پانی اتارا، پھر اسے چشموں کی صورت زمین میں چلایا، پھر وہ اس کے ساتھ کھیتی نکالتا ہے، جس کے رنگ مختلف ہیں،پھر وہ پک کر تیار ہو جاتی ہے، پھر تو اسے دیکھتا ہے پیلی ہونے والی، پھر وہ اسے چورا بنا دیتا ہے، بے شک اس میں عقلوں والوں کے لیے یقینا بڑی نصیحت ہے۔
22
أفمن شرح الله صدره للإسلام فهو على نور من ربه فويل للقاسية قلوبهم من ذكر الله أولئك في ضلال مبين
تو کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے، سو وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر ہے (کسی سخت دل کافر جیسا ہو سکتا ہے؟) پس ان کے لیے ہلاکت ہے جن کے دل اللہ کی یاد کی طرف سے سخت ہیں، یہ لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔
ابن کثیر ↑
23
الله نزل أحسن الحديث كتابا متشابها مثاني تقشعر منه جلود الذين يخشون ربهم ثم تلين جلودهم وقلوبهم إلى ذكر الله ذلك هدى الله يهدي به من يشاء ومن يضلل الله فما له من هاد
اللہ نے سب سے اچھی بات نازل فرمائی، ایسی کتاب جو آپس میں ملتی جلتی ہے، (ایسی آیات )جو باربار دہرائی جانے والی ہیں، اس سے ان لوگوں کی کھالوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کی کھالیں اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے، جس کے ساتھ وہ جسے چاہتا ہے راہ پر لے آتا ہے اور جسے اللہ گمراہ کر دے تو اسے کوئی راہ پر لانے والا نہیں۔
24
أفمن يتقي بوجهه سوء العذاب يوم القيامة وقيل للظالمين ذوقوا ما كنتم تكسبون
تو کیا وہ شخص جو قیامت کے دن اپنے چہرے کے ساتھ بد ترین عذاب سے بچے گا (وہ جنتی جیسا ہو سکتا ہے؟) اور ظالموں سے کہا جائے گا چکھو جو تم کمایا کرتے تھے۔
25
كذب الذين من قبلهم فأتاهم العذاب من حيث لا يشعرون
ان لوگوں نے جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے تو ان پر وہاں سے عذاب آیا کہ وہ سوچتے نہ تھے۔
ابن کثیر ↑
26
فأذاقهم الله الخزي في الحياة الدنيا ولعذاب الآخرة أكبر لو كانوا يعلمون
پس اللہ نے انھیں دنیا کی زندگی میں رسوائی چکھائی اور یقینا آخرت کا عذاب زیادہ بڑا ہے۔ کاش! وہ جانتے ہوتے۔
ابن کثیر ↑
27
ولقد ضربنا للناس في هذا القرآن من كل مثل لعلهم يتذكرون
اور بلاشبہ یقینا ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کی ہے، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
28
قرآنا عربيا غير ذي عوج لعلهم يتقون
واضح قرآن ،جس میں کوئی کجی نہیں، تاکہ وہ بچ جائیں۔
ابن کثیر ↑
29
ضرب الله مثلا رجلا فيه شركاء متشاكسون ورجلا سلما لرجل هل يستويان مثلا الحمد لله بل أكثرهم لا يعلمون
اللہ نے ایک آدمی کی مثال بیان کی جس میں ایک دوسرے سے جھگڑنے والے کئی شریک ہیں اور ایک اور آدمی کی جو سالم ایک ہی آدمی کا ہے، کیا دونوں مثال میں برابر ہیں؟ سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے۔
ابن کثیر ↑
30
إنك ميت وإنهم ميتون
بے شک تو مرنے والا ہے اور بے شک وہ بھی مرنے والے ہیں۔
ابن کثیر ↑
31
ثم إنكم يوم القيامة عند ربكم تختصمون
پھر بے شک تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے۔
ابن کثیر ↑
32
فمن أظلم ممن كذب على الله وكذب بالصدق إذ جاءه أليس في جهنم مثوى للكافرين
پھر اس سے زیادہ کون ظالم ہے جس نے اللہ پر جھوٹ بولا اور سچ کو جھٹلایا جب وہ اس کے پاس آیا، کیا ان کافروں کے لیے جہنم میں کوئی ٹھکانا نہیں؟
33
والذي جاء بالصدق وصدق به أولئك هم المتقون
اور وہ شخص جو سچ لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی یہی لوگ بچنے والے ہیں۔
ابن کثیر ↑
34
لهم ما يشاءون عند ربهم ذلك جزاء المحسنين
ان کے لیے ان کے رب کے پاس وہ کچھ ہے جو وہ چاہیں گے، یہی نیکی کرنے والوں کی جزا ہے۔
ابن کثیر ↑
35
ليكفر الله عنهم أسوأ الذي عملوا ويجزيهم أجرهم بأحسن الذي كانوا يعملون
تاکہ اللہ ان سے وہ بد ترین عمل دور کر دے جو انھوں نے کیے اور انھیں ان کا اجر ان بہترین اعمال کے مطابق دے جو وہ کیا کرتے تھے۔
ابن کثیر ↑
36
أليس الله بكاف عبده ويخوفونك بالذين من دونه ومن يضلل الله فما له من هاد
کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے اور وہ تجھے ان سے ڈراتے ہیں جو اس کے سوا ہیں اور جسے اللہ گمراہ کر دے پھر اسے کوئی راہ پر لانے والا نہیں۔
37
ومن يهد الله فما له من مضل أليس الله بعزيز ذي انتقام
اور جسے اللہ راہ پر لے آئے، پھر اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، کیا اللہ سب پر غالب، انتقام لینے والا نہیں ہے؟
ابن کثیر ↑
38
ولئن سألتهم من خلق السماوات والأرض ليقولن الله قل أفرأيتم ما تدعون من دون الله إن أرادني الله بضر هل هن كاشفات ضره أو أرادني برحمة هل هن ممسكات رحمته قل حسبي الله عليه يتوكل المتوكلون
اور یقینا اگر تو ان سے پوچھے کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو ضرور ہی کہیں گے کہ اللہ نے۔ کہہ تو کیا تم نے دیکھا کہ وہ ہستیاں جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانے کا ارادہ کرے تو کیا وہ اس کے نقصان کو ہٹانے والی ہیں؟ یا وہ مجھ پر کوئی مہربانی کرنا چاہے تو کیا وہ اس کی رحمت کو روکنے والی ہیں؟ کہہ دے مجھے اللہ ہی کافی ہے، اسی پر بھروسا کرنے والے بھروسا کرتے ہیں۔
ابن کثیر ↑
39
قل يا قوم اعملوا على مكانتكم إني عامل فسوف تعلمون
کہہ دے اے میری قوم! تم اپنی جگہ عمل کرو، بے شک میں بھی عمل کرنے والا ہوں، پھر تم جلد ہی جان لو گے۔
ابن کثیر ↑
40
من يأتيه عذاب يخزيه ويحل عليه عذاب مقيم
کہ کون ہے جس پر وہ عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے گا اور کس پر ہمیشہ رہنے والا عذاب اترتا ہے۔
ابن کثیر ↑
41
إنا أنزلنا عليك الكتاب للناس بالحق فمن اهتدى فلنفسه ومن ضل فإنما يضل عليها وما أنت عليهم بوكيل
بلاشبہ ہم نے تجھ پر یہ کتاب لوگوں کے لیے حق کے ساتھ نازل کی ہے، پھر جو سیدھے راستے پر چلا سو اپنی جان کے لیے اور جو گمراہ ہوا تو اسی پر گمراہ ہوگا اور تو ہرگز ان پر کوئی ذمہ دار نہیں۔
42
الله يتوفى الأنفس حين موتها والتي لم تمت في منامها فيمسك التي قضى عليها الموت ويرسل الأخرى إلى أجل مسمى إن في ذلك لآيات لقوم يتفكرون
اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے اور ان کو بھی جو نہیں مریں ان کی نیند میں، پھر اسے روک لیتا ہے جس پر اس نے موت کا فیصلہ کیا اور دوسری کو ایک مقرر وقت تک بھیج دیتا ہے۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔
ابن کثیر ↑
43
أم اتخذوا من دون الله شفعاء قل أولو كانوا لا يملكون شيئا ولا يعقلون
یا انھوں نے اللہ کے سوا کچھ سفارشی بنا لیے ہیں۔ کہہ دے کیا اگرچہ وہ کبھی نہ کسی چیز کے مالک ہوں اور نہ عقل رکھتے ہوں۔
44
قل لله الشفاعة جميعا له ملك السماوات والأرض ثم إليه ترجعون
کہہ دے شفاعت ساری کی ساری اللہ ہی کے اختیار میں ہے، آسمانوں کی اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے، پھر تم اسی کی طرف لو ٹائے جاؤ گے۔
ابن کثیر ↑
45
وإذا ذكر الله وحده اشمأزت قلوب الذين لا يؤمنون بالآخرة وإذا ذكر الذين من دونه إذا هم يستبشرون
اور جب اس اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل تنگ پڑجاتے ہیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور جب ان کا ذکر ہوتا ہے جو اس کے سوا ہیں تو اچانک وہ بہت خوش ہو جاتے ہیں۔
ابن کثیر ↑
46
قل اللهم فاطر السماوات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت تحكم بين عبادك في ما كانوا فيه يختلفون
تو کہہ اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے! ہر چھپی اور کھلی کو جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔
47
ولو أن للذين ظلموا ما في الأرض جميعا ومثله معه لافتدوا به من سوء العذاب يوم القيامة وبدا لهم من الله ما لم يكونوا يحتسبون
اور اگر ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا، وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اتنا اور بھی ہو تو قیامت کے دن برے عذاب سے (بچنے کے لیے) وہ ضرور اسے فدیے میں دے دیں، اور ان کے لیے اللہ کی طرف سے وہ کچھ سامنے آجائے گا جس کا وہ گمان نہیں کیا کرتے تھے۔
ابن کثیر ↑
48
وبدا لهم سيئات ما كسبوا وحاق بهم ما كانوا به يستهزئون
اور ان کے لیے ان (اعمال) کی برائیاں ظاہر ہو جائیں گی جو انھوں نے کمائے اور انھیں وہ چیز گھیر لے گی جسے وہ مذاق کیا کرتے تھے۔
ابن کثیر ↑
49
فإذا مس الإنسان ضر دعانا ثم إذا خولناه نعمة منا قال إنما أوتيته على علم بل هي فتنة ولكن أكثرهم لا يعلمون
پھر جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے، پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا کرتے ہیں تو کہتا ہے یہ مجھے ایک علم کی بنیاد ہی پر دی گئی ہے۔ بلکہ وہ ایک آزمائش ہے اور لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔
50
قد قالها الذين من قبلهم فما أغنى عنهم ما كانوا يكسبون
بلا شبہ یہی بات ان لوگوں نے کہی جو ان سے پہلے تھے تو ان کے کام نہ آیا جو وہ کمایا کرتے تھے۔
ابن کثیر ↑