🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن مجيد
سورة فصلت/حم السجده
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آیت تفسیر
1
حم
حم۔
2
تنزيل من الرحمن الرحيم
اس بے حد رحم والے، نہایت مہربان کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔
ابن کثیر ↑
3
كتاب فصلت آياته قرآنا عربيا لقوم يعلمون
ایسی کتاب جس کی آیات کھول کر بیان کی گئی ہیں، عربی قرآن ہے، ان لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں۔
ابن کثیر ↑
4
بشيرا ونذيرا فأعرض أكثرهم فهم لا يسمعون
بشارت دینے والا اور ڈرانے والا، تو ان کے اکثر نے منہ موڑ لیا، سو وہ نہیں سنتے۔
ابن کثیر ↑
5
وقالوا قلوبنا في أكنة مما تدعونا إليه وفي آذاننا وقر ومن بيننا وبينك حجاب فاعمل إننا عاملون
اور انھوں نے کہا ہمارے دل اس بات سے پردوں میں ہیں جس کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے اور ہمارے کانوں میں ایک بوجھ ہے اور ہمارے درمیان اور تیرے درمیان ایک حجاب ہے، پس تو عمل کر، بے شک ہم بھی عمل کرنے والے ہیں۔
ابن کثیر ↑
6
قل إنما أنا بشر مثلكم يوحى إلي أنما إلهكم إله واحد فاستقيموا إليه واستغفروه وويل للمشركين
کہہ دے میں تو تمھارے جیسا ایک بشر ہی ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمھارا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، سو اس کی طرف سیدھے ہو جائو اور اس سے بخشش مانگو اور مشرکوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔
7
الذين لا يؤتون الزكاة وهم بالآخرة هم كافرون
وہ جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کا انکار کرنے والے بھی وہی ہیں۔
ابن کثیر ↑
8
إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات لهم أجر غير ممنون
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے ختم نہ کیا جانے والا اجر ہے۔
ابن کثیر ↑
9
قل أئنكم لتكفرون بالذي خلق الأرض في يومين وتجعلون له أندادا ذلك رب العالمين
کہہ کیا بے شک تم واقعی اس کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور اس کے لیے شریک بناتے ہو؟ وہی سب جہانوں کا رب ہے۔
10
وجعل فيها رواسي من فوقها وبارك فيها وقدر فيها أقواتها في أربعة أيام سواء للسائلين
اور اس نے اس میں اس کے اوپر سے گڑے ہوئے پہاڑ بنائے اور اس میں بہت برکت رکھی اور اس میں اس کی غذائیں اندازے کے ساتھ رکھیں، چار دن میں، اس حال میں کہ سوال کرنے والوں کے لیے برابر (جواب) ہے۔
ابن کثیر ↑
11
ثم استوى إلى السماء وهي دخان فقال لها وللأرض ائتيا طوعا أو كرها قالتا أتينا طائعين
پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہو ا اور وہ ایک دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے کہا کہ آؤ خوشی سے یا ناخوشی سے۔ دونوں نے کہا ہم خوشی سے آگئے۔
ابن کثیر ↑
12
فقضاهن سبع سماوات في يومين وأوحى في كل سماء أمرها وزينا السماء الدنيا بمصابيح وحفظا ذلك تقدير العزيز العليم
تو اس نے انھیں دو دنوں میں سات آسمان پورے بنا دیا اور ہر آسمان میںاس کے کام کی وحی فرمائی اور ہم نے قریب کے آسمان کو چراغوں کے ساتھ زینت دی اور خوب محفوظ کر دیا۔ یہ اس کا اندازہ ہے جو سب پر غالب، سب کچھ جاننے والا ہے۔
13
فإن أعرضوا فقل أنذرتكم صاعقة مثل صاعقة عاد وثمود
پھر اگر وہ منہ موڑ لیں تو کہہ دے میں نے تمھیں ایک ایسی کڑک سے خبردار کر دیا جو عاد اور ثمود کی کڑک جیسی ہو گی۔
ابن کثیر ↑
14
إذ جاءتهم الرسل من بين أيديهم ومن خلفهم ألا تعبدوا إلا الله قالوا لو شاء ربنا لأنزل ملائكة فإنا بما أرسلتم به كافرون
جب ان کے پاس ان کے رسول ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے آئے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو، انھوں نے کہا اگر ہمارا رب چاہتا تو ضرور کوئی فرشتے نازل کر دیتا، پس بے شک ہم اس سے جو دے کر تم بھیجے گئے ہو، منکر ہیں۔
ابن کثیر ↑
15
فأما عاد فاستكبروا في الأرض بغير الحق وقالوا من أشد منا قوة أولم يروا أن الله الذي خلقهم هو أشد منهم قوة وكانوا بآياتنا يجحدون
پھر جو عاد تھے وہ زمین میں کسی حق کے بغیر بڑے بن بیٹھے اور انھوں نے کہا ہم سے قوت میں کون زیادہ سخت ہے؟ اور کیا انھوںنے نہیںدیکھا کہ وہ اللہ جس نے انھیں پیدا کیا، قوت میں ان سے کہیں زیادہ سخت ہے اور وہ ہماری آیات کا انکار کیا کرتے تھے۔
ابن کثیر ↑
16
فأرسلنا عليهم ريحا صرصرا في أيام نحسات لنذيقهم عذاب الخزي في الحياة الدنيا ولعذاب الآخرة أخزى وهم لا ينصرون
تو ہم نے ان پر ایک سخت تند ہوا چند منحوس دنوں میں بھیجی، تاکہ ہم انھیں دنیا کی زندگی میں ذلت کا عذاب چکھائیں اور یقینا آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کرنے والاہے اور ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔
ابن کثیر ↑
17
وأما ثمود فهديناهم فاستحبوا العمى على الهدى فأخذتهم صاعقة العذاب الهون بما كانوا يكسبون
اور جو ثمود تھے تو ہم نے انھیں سیدھا راستہ دکھایا مگر انھوںنے ہدایت کے مقابلہ میں اندھا رہنے کو پسند کیا تو انھیںذلیل کرنے والے عذاب کی کڑک نے پکڑ لیا، اس کی وجہ سے جو وہ کماتے تھے۔
ابن کثیر ↑
18
ونجينا الذين آمنوا وكانوا يتقون
اور ہم نے ان لوگوں کو بچا لیا جو ایمان لائے اور بچا کرتے تھے۔
ابن کثیر ↑
19
ويوم يحشر أعداء الله إلى النار فهم يوزعون
اور جس دن اللہ کے دشمن آگ کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے، پھر ان کی الگ الگ قسمیں بنائی جائیں گی۔
20
حتى إذا ما جاءوها شهد عليهم سمعهم وأبصارهم وجلودهم بما كانوا يعملون
یہاں تک کہ جوں ہی اس کے پاس پہنچیں گے ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے ان کے خلاف اس کی شہادت دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔
ابن کثیر ↑
21
وقالوا لجلودهم لم شهدتم علينا قالوا أنطقنا الله الذي أنطق كل شيء وهو خلقكم أول مرة وإليه ترجعون
اور وہ اپنے چمڑوں سے کہیں گے تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی؟ وہ کہیں گے ہمیں اس اللہ نے بلوا دیا جس نے ہر چیز کو بلوایا اور اسی نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا اور اسی کی طرف تم واپس لائے جا رہے ہو۔
ابن کثیر ↑
22
وما كنتم تستترون أن يشهد عليكم سمعكم ولا أبصاركم ولا جلودكم ولكن ظننتم أن الله لا يعلم كثيرا مما تعملون
اور تم اس سے پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمھارے خلاف تمھارے کان گواہی دیں گے اور نہ تمھاری آنکھیں اور نہ تمھارے چمڑے اور لیکن تم نے گمان کیا کہ بے شک اللہ بہت سے کام، جو تم کرتے ہو، نہیں جانتا۔
ابن کثیر ↑
23
وذلكم ظنكم الذي ظننتم بربكم أرداكم فأصبحتم من الخاسرين
اور یہ تمھارا گمان تھا جو تم نے اپنے رب کے بارے میں کیا، اسی نے تمھیں ہلاک کر دیا، سو تم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو گئے۔
ابن کثیر ↑
24
فإن يصبروا فالنار مثوى لهم وإن يستعتبوا فما هم من المعتبين
پس اگر وہ صبر کریں تو آگ ان کے لیے ٹھکانا ہے اور اگر وہ معافی کی درخواست کریں تو وہ معاف کیے گئے لوگوں سے نہیں ہیں۔
ابن کثیر ↑
25
وقيضنا لهم قرناء فزينوا لهم ما بين أيديهم وما خلفهم وحق عليهم القول في أمم قد خلت من قبلهم من الجن والإنس إنهم كانوا خاسرين
اور ہم نے ان کے لیے کچھ ساتھی مقرر کر دیے تو انھوں نے ان کے لیے ان کے سامنے اور ان کے پیچھے جو کچھ تھا، خوش نما بنا دیا اور ان پر بات ثابت ہو گئی، ان قوموں کے ساتھ ساتھ جو جنوں اور انسانوں میں سے ان سے پہلے گزر چکی تھیں، بے شک وہ خسارہ اٹھانے والے تھے۔
26
وقال الذين كفروا لا تسمعوا لهذا القرآن والغوا فيه لعلكم تغلبون
اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، اس قرآن کو مت سنو اور اس میں شور کرو، تاکہ تم غالب رہو۔
ابن کثیر ↑
27
فلنذيقن الذين كفروا عذابا شديدا ولنجزينهم أسوأ الذي كانوا يعملون
سو یقینا ہم ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ضرور بہت سخت عذاب چکھائیں گے اور یقیناً ہم انھیں ان بدترین اعمال کا بدلہ ضرور دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔
ابن کثیر ↑
28
ذلك جزاء أعداء الله النار لهم فيها دار الخلد جزاء بما كانوا بآياتنا يجحدون
یہ اللہ کے دشمنوں کی جزا آگ ہی ہے، انھی کے لیے اس میں ہمیشہ رہنے کا گھر ہے، اس کی جزا کے لیے جو وہ ہماری آیات کا انکار کیا کرتے تھے۔
ابن کثیر ↑
29
وقال الذين كفروا ربنا أرنا اللذين أضلانا من الجن والإنس نجعلهما تحت أقدامنا ليكونا من الأسفلين
اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کہیں گے اے ہمارے رب! تو ہمیں جنوں اور انسانوں میں سے وہ دونوں دکھا جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا، ہم انھیں اپنے قدموں کے نیچے ڈالیں، تاکہ وہ سب سے نچلے لوگوں سے ہو جائیں۔
ابن کثیر ↑
30
إن الذين قالوا ربنا الله ثم استقاموا تتنزل عليهم الملائكة ألا تخافوا ولا تحزنوا وأبشروا بالجنة التي كنتم توعدون
بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے، پھر خوب قائم رہے، ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور اس جنت کے ساتھ خوش ہو جائو جس کاتم وعدہ دیے جاتے تھے۔
31
نحن أولياؤكم في الحياة الدنيا وفي الآخرة ولكم فيها ما تشتهي أنفسكم ولكم فيها ما تدعون
ہم تمھارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بھی اور تمھارے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو تمھارے دل چاہیں گے اور تمھارے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو تم مانگو گے۔
ابن کثیر ↑
32
نزلا من غفور رحيم
یہ بے حد بخشنے والے، نہایت مہربان کی طرف سے مہمانی ہے۔
ابن کثیر ↑
33
ومن أحسن قولا ممن دعا إلى الله وعمل صالحا وقال إنني من المسلمين
اور بات کے اعتبار سے اس سے اچھا کون ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے کہ بے شک میں فرماںبرداروں میں سے ہوں۔
34
ولا تستوي الحسنة ولا السيئة ادفع بالتي هي أحسن فإذا الذي بينك وبينه عداوة كأنه ولي حميم
اور نہ نیکی برابر ہوتی ہے اور نہ برائی۔ (برائی کو) اس (طریقے) کے ساتھ ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہوگا جیسے وہ دلی دوست ہے۔
ابن کثیر ↑
35
وما يلقاها إلا الذين صبروا وما يلقاها إلا ذو حظ عظيم
اور یہ چیز نہیں دی جاتی مگر انھی کو جو صبر کریں اور یہ نہیں دی جاتی مگر اسی کو جو بہت بڑے نصیب والا ہے۔
ابن کثیر ↑
36
وإما ينزغنك من الشيطان نزغ فاستعذ بالله إنه هو السميع العليم
اور اگر کبھی شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ تجھے ابھار ہی دے تو اللہ کی پناہ طلب کر، بلاشبہ وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
ابن کثیر ↑
37
ومن آياته الليل والنهار والشمس والقمر لا تسجدوا للشمس ولا للقمر واسجدوا لله الذي خلقهن إن كنتم إياه تعبدون
اور اسی کی نشانیوں میںسے رات اور دن، اورسورج اور چاند ہیں، نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو اور اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے انھیں پیدا کیا، اگر تم صرف اس کی عبادت کرتے ہو۔
38
فإن استكبروا فالذين عند ربك يسبحون له بالليل والنهار وهم لا يسأمون
پھر اگر وہ تکبر کریں تو وہ (فرشتے) جو تیرے رب کے پاس ہیں وہ رات اور دن اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ نہیں اکتاتے۔
ابن کثیر ↑
39
ومن آياته أنك ترى الأرض خاشعة فإذا أنزلنا عليها الماء اهتزت وربت إن الذي أحياها لمحيي الموتى إنه على كل شيء قدير
اور اس کی نشانیوںمیں سے ایک یہ ہے کہ تو زمین کو دبی ہوئی (بنجر) دیکھتا ہے، پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں تو وہ لہلہاتی ہے اور پھولتی ہے۔ بے شک وہ جس نے اسے زندہ کیا، یقینا مردوں کو زندہ کرنے والا ہے، یقینا وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
ابن کثیر ↑
40
إن الذين يلحدون في آياتنا لا يخفون علينا أفمن يلقى في النار خير أم من يأتي آمنا يوم القيامة اعملوا ما شئتم إنه بما تعملون بصير
بے شک وہ لوگ جو ہماری آیات کے بارے میں ٹیڑھے چلتے ہیں، وہ ہم پر مخفی نہیں رہتے، تو کیا وہ شخص جو آگ میں پھینکا جائے بہتر ہے، یاجو امن کی حالت میں قیامت کے دن آئے؟ تم کرو جو چاہو، بے شک وہ اسے جو تم کر رہے ہو خوب دیکھنے والا ہے۔
41
إن الذين كفروا بالذكر لما جاءهم وإنه لكتاب عزيز
بے شک وہ لوگ جنھوں نے اس نصیحت کے ساتھ کفر کیا، جب وہ ان کے پاس آئی ( وہ بھی ہم پر مخفی نہیں ہیں )اور بلاشبہ یہ یقینا ایک باعزت کتاب ہے۔
ابن کثیر ↑
42
لا يأتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه تنزيل من حكيم حميد
اس کے پاس باطل نہ اس کے آگے سے آتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے، ایک کمال حکمت والے، تمام خوبیوں والے کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔
ابن کثیر ↑
43
ما يقال لك إلا ما قد قيل للرسل من قبلك إن ربك لذو مغفرة وذو عقاب أليم
تجھے نہیں کہا جائے گا مگر وہی جو ان رسولوں سے کہا گیا جو تجھ سے پہلے تھے اور بے شک تیرا رب یقینا بڑی بخشش والا اور بہت دردناک عذاب والا ہے۔
ابن کثیر ↑
44
ولو جعلناه قرآنا أعجميا لقالوا لولا فصلت آياته أأعجمي وعربي قل هو للذين آمنوا هدى وشفاء والذين لا يؤمنون في آذانهم وقر وهو عليهم عمى أولئك ينادون من مكان بعيد
اور اگر ہم اسے عجمی قرآن بنا دیتے تو یقینا وہ کہتے اس کی آیات کھول کر کیوں نہ بیان کی گئیں، کیا عجمی زبان اور عربی (رسول)؟ کہہ دے یہ ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہدایت اور شفا ہے اور وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے اور یہ ان کے حق میں اندھا ہونے کا باعث ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں بہت دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے۔
45
ولقد آتينا موسى الكتاب فاختلف فيه ولولا كلمة سبقت من ربك لقضي بينهم وإنهم لفي شك منه مريب
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی طرف سے پہلے طے ہو چکی تو ان کے درمیان ضرور فیصلہ کر دیا جاتا اور بلاشبہ وہ اس کے متعلق یقینا ایسے شک میں ہیں جو بے چین رکھنے والا ہے۔
ابن کثیر ↑
46
من عمل صالحا فلنفسه ومن أساء فعليها وما ربك بظلام للعبيد
جس نے نیک عمل کیا سو اپنے لیے اور جس نے برائی کی سو اسی پر ہوگی اور تیرا رب اپنے بندوں پر ہرگز کوئی ظلم کرنے والا نہیں۔
47
إليه يرد علم الساعة وما تخرج من ثمرات من أكمامها وما تحمل من أنثى ولا تضع إلا بعلمه ويوم يناديهم أين شركائي قالوا آذناك ما منا من شهيد
اسی کی طرف قیامت کا علم لوٹا یا جاتا ہے اور کسی قسم کے پھل اپنے غلافوں سے نہیں نکلتے اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہبچہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے۔ اور جس دن وہ انھیں پکارے گا کہاں ہیں میرے شریک ؟وہ کہیں گے ہم نے تجھے صاف بتا دیا ہے، ہم میں سے کوئی (اس کی) شہادت دینے والا نہیں۔
48
وضل عنهم ما كانوا يدعون من قبل وظنوا ما لهم من محيص
اور ان سے غائب ہو جائیں گے وہ جنھیں وہ اس سے پہلے پکارتے تھے اور سمجھ لیں گے کہ ان کے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں۔
ابن کثیر ↑
49
لا يسأم الإنسان من دعاء الخير وإن مسه الشر فيئوس قنوط
انسان بھلائی مانگنے سے نہیں اکتاتا اور اگر اسے کوئی برائی آ پہنچے تو بہت مایوس، نہایت ناامید ہوتا ہے۔
50
ولئن أذقناه رحمة منا من بعد ضراء مسته ليقولن هذا لي وما أظن الساعة قائمة ولئن رجعت إلى ربي إن لي عنده للحسنى فلننبئن الذين كفروا بما عملوا ولنذيقنهم من عذاب غليظ
اور یقینا اگر ہم اسے کسی تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی ہو، اپنی طرف سے کسی رحمت کامزہ چکھائیں تو ضرور ہی کہے گا یہ میرا حق ہے اور میں گمان نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہو نے والی ہے اور اگر واقعی مجھے اپنے رب کی طر ف واپس لے جایا گیا تو یقینا میرے لیے اس کے پاس ضرور بھلائی ہے۔ پس ہم یقینا ان لوگوں کو جنھوںنے کفر کیا ضرور بتائیں گے جو کچھ انھوں نے کیا اور یقینا ہم انھیں ایک سخت عذاب میں سے ضرور چکھائیں گے۔
ابن کثیر ↑