قرآن مجيد
سورة الملك
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
| نمبر | آیت | تفسیر |
|---|---|---|
1 |
بہت برکت والا ہے وہ کہ تمام بادشاہی صرف اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
|
|
2 |
وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے اور وہی سب پر غالب، بے حد بخشنے والا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
3 |
وہ جس نے سات آسمان اوپر نیچے پیدا فرمائے۔ رحمان کے پیدا کیے ہوئے میں تو کوئی کمی بیشی نہیں دیکھے گا۔ پس نگاہ کو لوٹا، کیا تجھے کوئی کٹی پھٹی جگہ نظر آتی ہے؟
|
ابن کثیر ↑
|
4 |
پھر بار بار نگاہ لوٹا، نظر ناکام ہو کر تیری طرف پلٹ آئے گی اور وہ تھکی ہوئی ہوگی۔
|
ابن کثیر ↑
|
5 |
اور بلاشبہ یقینا ہم نے قریب کے آسمان کو چراغوں کے ساتھ زینت بخشی اور ہم نے انھیں شیطانوں کو مارنے کے آلے بنایا اور ہم نے ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
|
|
6 |
اور خاص ان لوگوں کے لیے جنھوں نے اپنے رب کا انکار کیا، جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔
|
|
7 |
جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے، اس کے لیے گدھے کے زور سے چیخنے جیسی آواز سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہو گی۔
|
ابن کثیر ↑
|
8 |
قریب ہو گی کہ غصے سے پھٹ جائے۔ جب بھی کوئی گروہ اس میں ڈالا جائے گا، اس کے نگران ان سے پوچھیں گے کیا تمھارے پا س کوئی ڈرانے والا نہیں آیا؟
|
ابن کثیر ↑
|
9 |
وہ کہیں گے کیوں نہیں؟ یقینا ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تو ہم نے جھٹلا دیا اور ہم نے کہا اللہ نے کوئی چیز نہیں اتاری، تم تو ایک بڑی گمراہی میں ہی پڑے ہوئے ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
10 |
اور وہ کہیں گے اگر ہم سنتے ہوتے، یا سمجھتے ہوتے تو بھڑکتی ہوئی آگ والوں میں نہ ہوتے ۔
|
ابن کثیر ↑
|
11 |
پس وہ اپنے گناہ کا اقرار کریں گے، سو دوری ہے بھڑکتی ہوئی آگ والوں کے لیے۔
|
ابن کثیر ↑
|
12 |
یقینا جو لوگ اپنے رب سے بغیر دیکھے ڈرتے ہیں، ان کے لیے بڑی بخشش اور بڑا اجر ہے۔
|
|
13 |
اور تم اپنی بات کو چھپاؤ، یا اسے بلند آواز سے کرو (برابر ہے)، یقینا وہ سینوں والی بات کو خوب جاننے والاہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
14 |
کیاوہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے اور وہی تو ہے جو نہایت باریک بین ہے، کامل خبر رکھنے والا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
15 |
وہی ہے جس نے تمھارے لیے زمین کو تابع بنا دیا، سو اس کے کندھوں پر چلو اور اس کے دیے ہوئے میں سے کھاؤ اور اسی کی طرف (دوبارہ) اٹھ کر جانا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
16 |
کیا تم اس سے بے خوف ہو گئے ہو جو آسمان میں ہے کہ وہ تمھیں زمین میں دھنسادے، تو اچانک وہ حرکت کرنے لگے؟
|
|
17 |
یا تم اس سے بے خوف ہو گئے ہو جو آسمان میں ہے کہ وہ تم پر پتھراؤ والی آندھی بھیج دے، پھر عنقریب تم جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے؟
|
ابن کثیر ↑
|
18 |
اور بلاشبہ یقینا ان لوگوں نے( بھی) جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے، پھر کس طرح تھا میرا سزا دینا؟
|
ابن کثیر ↑
|
19 |
اور کیا انھوں نے اپنے اوپر پرندوں کو اس حال میں نہیں دیکھا کہ وہ پر پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں اور کبھی سکیڑ لیتے ہیں۔ رحمان کے سوا انھیں کوئی تھام نہیں رہا ہوتا۔ یقینا وہ ہر چیز کو خوب دیکھنے والا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
20 |
یا کون ہے وہ جو تمھارا لشکر ہو، تمھاری مدد کرے، رحمان کے مقابلے میں؟ کافر دھوکے کے سوا کسی کھاتے میں نہیں ہیں۔
|
|
21 |
یا وہ کون ہے جو تمھیں رزق دے، اگر وہ اپنا رزق روک لے؟ بلکہ وہ سرکشی اور بدکنے پر اڑے ہوئے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
22 |
تو کیا وہ شخص جو اپنے منہ کے بل الٹا ہو کر چلتا ہے، زیادہ ہدایت والا ہے، یا وہ جو سیدھا ہو کر درست راستے پر چلتا ہے؟
|
ابن کثیر ↑
|
23 |
کہہ دے وہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا اور تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے، تم کم ہی شکر کرتے ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
24 |
کہہ دے وہی ہے جس نے تمھیں زمین میں پھیلایا اور تم اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
25 |
اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا، اگر تم سچے ہو؟
|
ابن کثیر ↑
|
26 |
کہہ دے یہ علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو بس ایک کھلا ڈرانے والا ہوں۔
|
ابن کثیر ↑
|
27 |
پس جب وہ اس کو قریب دیکھیں گے تو ان لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے جنھوں نے انکار کیا اور کہا جائے گا یہی ہے وہ جو تم مانگا کرتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
28 |
کہہ دے کیا تم نے دیکھا اگر اللہ مجھے اور ان کو جو میرے ساتھ ہیں ہلاک کر دے، یا ہم پر رحم فرمائے تو کون ہے جو کافروں کو دردناک عذاب سے پناہ دے گا؟
|
|
29 |
کہہ دے وہی بے حد رحم والا ہے، ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے اسی پر بھروسا کیا، تو تم عنقریب جان لوگے کہ وہ کون ہے جو کھلی گمراہی میں ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
30 |
کہہ دے کیا تم نے دیکھا اگر تمھارا پانی گہرا چلا جائے تو کون ہے جو تمھارے پاس بہتا ہوا پانی لائے گا؟
|
ابن کثیر ↑
|