🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن مجيد
سورة المزمل
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آیت تفسیر
1
يا أيها المزمل
اے کپڑے میں لپٹنے والے!
2
قم الليل إلا قليلا
رات کو قیام کر مگر تھوڑا۔
ابن کثیر ↑
3
نصفه أو انقص منه قليلا
آدھی رات( قیام کر)، یا اس سے تھوڑا سا کم کرلے۔
ابن کثیر ↑
4
أو زد عليه ورتل القرآن ترتيلا
یا اس سے زیادہ کرلے اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھ۔
ابن کثیر ↑
5
إنا سنلقي عليك قولا ثقيلا
یقینا ہم ضرور تجھ پر ایک بھاری کلام نازل کریں گے۔
ابن کثیر ↑
6
إن ناشئة الليل هي أشد وطئا وأقوم قيلا
بلاشبہ رات کو اٹھنا(نفس کو) کچلنے میں زیادہ سخت اور بات کرنے میں زیادہ درستی والا ہے۔
ابن کثیر ↑
7
إن لك في النهار سبحا طويلا
بلاشبہ تیرے لیے دن میں ایک لمبا کام ہے۔
8
واذكر اسم ربك وتبتل إليه تبتيلا
اور اپنے رب کا نام ذکر کر اور ہر طرف سے منقطع ہو کر اسی کی طرف متوجہ ہو جا۔
ابن کثیر ↑
9
رب المشرق والمغرب لا إله إلا هو فاتخذه وكيلا
مشرق و مغرب کا رب ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سو اس کو کارساز بنالے۔
ابن کثیر ↑
10
واصبر على ما يقولون واهجرهم هجرا جميلا
اور اس پر صبر کر جو وہ کہتے ہیں اور انھیں چھوڑ دے، خوبصورت طریقے سے چھوڑنا۔
11
وذرني والمكذبين أولي النعمة ومهلهم قليلا
اور چھوڑ مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو جو خوش حال ہیں اور انھیں تھوڑی سی مہلت دے۔
ابن کثیر ↑
12
إن لدينا أنكالا وجحيما
بلاشبہ ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور سخت بھڑکتی ہوئی آگ۔
ابن کثیر ↑
13
وطعاما ذا غصة وعذابا أليما
اور گلے میں پھنس جانے والا کھانا اور درد ناک عذاب۔
ابن کثیر ↑
14
يوم ترجف الأرض والجبال وكانت الجبال كثيبا مهيلا
جس دن زمین اور پہاڑ کانپیں گے اور پہاڑ گرائی ہوئی ریت کے ٹیلے ہو جائیں گے۔
ابن کثیر ↑
15
إنا أرسلنا إليكم رسولا شاهدا عليكم كما أرسلنا إلى فرعون رسولا
بلاشبہ ہم نے تمھاری طرف ایک پیغام پہنچانے والا بھیجا جو تم پر گواہی دینے والا ہے، جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک پیغام پہنچانے والا بھیجا۔
ابن کثیر ↑
16
فعصى فرعون الرسول فأخذناه أخذا وبيلا
سو فرعون نے اس پیغام پہنچانے والے کی نافرمانی کی تو ہم نے اسے پکڑ لیا، نہایت سخت پکڑنا۔
ابن کثیر ↑
17
فكيف تتقون إن كفرتم يوما يجعل الولدان شيبا
پھر تم کیسے بچو گے اگر تم نے کفر کیا، اس دن سے جو بچوں کو بوڑھے کر دے گا۔
ابن کثیر ↑
18
السماء منفطر به كان وعده مفعولا
اس میں آسمان پھٹ جانے والا ہے، اس کا وعدہ ہمیشہ سے (پورا) ہو کر رہنے والا ہے۔
ابن کثیر ↑
19
إن هذه تذكرة فمن شاء اتخذ إلى ربه سبيلا
یقینا یہ ایک نصیحت ہے، تو جو چاہے اپنے رب کی طرف راستہ بنا لے۔
20
إن ربك يعلم أنك تقوم أدنى من ثلثي الليل ونصفه وثلثه وطائفة من الذين معك والله يقدر الليل والنهار علم أن لن تحصوه فتاب عليكم فاقرءوا ما تيسر من القرآن علم أن سيكون منكم مرضى وآخرون يضربون في الأرض يبتغون من فضل الله وآخرون يقاتلون في سبيل الله فاقرءوا ما تيسر منه وأقيموا الصلاة وآتوا الزكاة وأقرضوا الله قرضا حسنا وما تقدموا لأنفسكم من خير تجدوه عند الله هو خيرا وأعظم أجرا واستغفروا الله إن الله غفور رحيم
بلاشبہ تیرا رب جانتا ہے کہ تو رات کے دو تہائی کے قریب اور اس کا نصف اور اس کا تیسرا حصہ قیام کرتا ہے اور ان لوگوں کی ایک جماعت بھی جو تیرے ساتھ ہیں اور اللہ رات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے۔ اس نے جان لیا کہ تم ہرگز اس کی طاقت نہیں رکھو گے، سو اس نے تم پر مہربانی فرمائی تو قرآن میں سے جو میسر ہو پڑھو۔ اس نے جان لیا کہ یقینا تم میں سے کچھ بیمار ہوں گے اور کچھ دوسرے زمین میں سفر کریں گے، اللہ کا فضل تلاش کریں گے اور کچھ دوسرے اللہ کی راہ میں لڑیں گے، پس اس میں سے جو میسر ہو پڑھو اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کو قرض دو، اچھا قرض دینا اور جو نیکی بھی تم اپنی جانوں کے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں پائو گے کہ وہ بہتر اور ثواب میں کہیں بڑی ہے اور اللہ سے بخشش مانگو، بلاشبہ اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
ابن کثیر ↑