پھر جو شخص کسی وصیت کرنے والے سے کسی قسم کی طرف داری یا گناہ سے ڈرے، پس ان کے درمیان اصلاح کر دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، یقینا اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔[182]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
فَمَنۡ
خَافَ
مِنۡ مُّوۡصٍ
جَنَفًا
اَوۡ
اِثۡمًا
فَاَصۡلَحَ
بَیۡنَہُمۡ
فَلَاۤ
اِثۡمَ
عَلَیۡہِ
اِنَّ
اللّٰہَ
غَفُوۡرٌ
رَّحِیۡمٌ
تو جو کوئی
خوف کرے
وصیت کرنے والے سے
طرف داری کا
یا
گناہ کا
تووہ اصلاح کرا دے
درمیان ان کے
تو نہیں
کوئی گناہ
اس پر
بیشک
اللہ
بہت بخشنے والا ہے
نہایت رحم کرنے والا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
فَمَنۡ
خَافَ
مِنۡ مُّوۡصٍ
جَنَفًا
اَوۡاِثۡمًا
فَاَصۡلَحَ
بَیۡنَہُمۡ
فَلَاۤ
اِثۡمَ
عَلَیۡہِ
اِنَّ
اللّٰہَ
غَفُوۡرٌ
رَّحِیۡمٌ
پھر جو کوئی
ڈرے
وصیت کرنے والے سے
کسی قسم کی طرف داری
یا گناہ سے
پس وہ صلح کروا دے
درمیان ان کے
تو نہیں
کوئی گناہ
اس پر
یقیناً
اللہ تعا لٰی
بے حد بخشنے والا
نہا یت رحم والا ہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
فَمَنْ
خَافَ
مِنْ
مُّوْصٍ
جَنَفًا
اَوْ اِثْمًا
فَاَصْلَحَ
بَيْنَهُمْ
فَلَآ اِثْمَ
عَلَيْهِ
اِنَّ
اللّٰهَ
غَفُوْرٌ
رَّحِيْمٌ
پس جو
خوف کرے
سے
وصیت کرنے والا
طرفداری
یا گناہ
پھر صلح کرادے
ان کے درمیان
پس نہیں گناہ
اس پر
بیشک
اللہ
بخشنے والا
رحم کرنے والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]