مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ لِتَشۡقٰۤی ۙ﴿۲﴾
ہم نے تجھ پر یہ قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ تو مصیبت میں پڑجائے۔[2]
|
لفظ / روٹ
|
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
|
مَا
|
Not |
أَنْزَلْنَا ن ز ل |
We (have) sent down نَزَلَ:نزل کا لفظ عام ہے ۔ تنزل ، وحی و احکامات الہی اور شیطانی القاء وغیرہ کے آتا ہے۔ مترادفات .نَزَلَ، حَلَّ، ھَبَطَ،
| اَنْزَل ، نَزَّلَ:کسی چیز کونیچے اتارنے کے لیے ہیں انزال یکبارگی اور تنزیل محض اتارنے کے لیے خواہ یکبارگی ہو یا بتدریج۔ مترادفات .اَنْزَل ، نَزَّلَ، اَحَلَّ، وَضَعَ، خَلَعَ،
|
|
عَلَيْكَ
|
to you |
الْقُرْآنَ ق ر أ |
the Quran |
لِتَشْقَى ش ق و |
that you be distressed شِقْوَة:بدبختی اور سختی کا دور ۔ مترادفات .شِقْوَة، نَحُوْسَة، طَائِر، شَئُوْم، حُسُوْم،
| شَقِیًّا:تمام بھلائی کی باتوں سے بے نصیبی کے لیے آیا ہے۔ مترادفات .مَحْرُوْم، شَقِیًّا،
|
|