تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم عورتوں کو طلاق دے دو، جب تک تم نے انھیں ہاتھ نہ لگایا ہو، یا ان کے لیے کوئی مہر مقرر نہ کیا ہو اور انھیں سامان دو، وسعت والے پر اس کی طاقت کے مطابق اور تنگی والے پر اس کی طاقت کے مطابق ہے، سامان معروف طریقے کے مطابق دینا ہے، نیکی کرنے والوں پر یہ حق ہے۔[236]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
لَاجُنَاحَ
عَلَیۡکُمۡ
اِنۡ
طَلَّقۡتُمُ
النِّسَآءَ
مَا
لَمۡ
تَمَسُّوۡہُنَّ
اَوۡ
تَفۡرِضُوۡا
لَہُنَّ
فَرِیۡضَۃً
وَّمَتِّعُوۡہُنَّ
عَلَی الۡمُوۡسِعِ
قَدَرُہٗ
وَعَلَی
الۡمُقۡتِرِ
قَدَرُہٗ
مَتَاعًۢا
بِالۡمَعۡرُوۡفِ
حَقًّا
عَلَی
الۡمُحۡسِنِیۡنَ
نہیں کوئی گناہ
تم پر
اگر
طلاق دےدو تم
عورتوں کو
جب کہ
نہ
تم نے چھوا انہیں
یا
تم نے مقرر کیا
ان کے لیے
کچھ مہر
اور مال و متاع دو انہیں
اوپر وسعت والے کے
اس کی وسعت کے مطابق
اور اوپر
تنگدست کے
اس کی وسعت کے مطابق
فائدہ پہنچانا ہے
بھلے طریقے سے
یہ حق ہے
اوپر
نیکی کرنے والون کے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
لَاجُنَاحَ
عَلَیۡکُمۡ
اِنۡ
طَلَّقۡتُمُ
النِّسَآءَ
مَا
لَمۡ تَمَسُّوۡہُنَّ
اَوۡ تَفۡرِضُوۡا
لَہُنَّ
فَرِیۡضَۃً
وَّمَتِّعُوۡہُنَّ
عَلَی الۡمُوۡسِعِ
قَدَرُہٗ
وَعَلَی الۡمُقۡتِرِ
قَدَرُہٗ
مَتَاعًۢا
بِالۡمَعۡرُوۡفِ
حَقًّا
عَلَی الۡمُحۡسِنِیۡنَ
نہیں کوئی گناہ
تم پر
اگر
تم طلاق دے دو
عورتوں کو
جب کہ
نہ تم نے ہا تھ لگا یا ہوانہیں
یا (نہ )تم نے مقرر کیا ہو
ان کے لیے
مہر
اورکچھ سا ما ن دے دو ان کو
خو شحا ل پر
اس کی کشا ئش کے مطابق
اور تنگ دست پر
اس کی حیثیت کے مطابق
سازو ساما ن د ینا ہے
معروف طریقے سے
حق ہے
نیکی کرنے والوں پر
حافظ نذر احمد حفظه الله
لَاجُنَاحَ
عَلَيْكُمْ
اِنْ
طَلَّقْتُمُ
النِّسَآءَ
مَالَمْ
تَمَسُّوْھُنَّ
اَوْ
تَفْرِضُوْا
لَھُنَّ
فَرِيْضَةً
وَّمَتِّعُوْھُنَّ
عَلَي
الْمُوْسِعِ
قَدَرُهٗ
وَعَلَي
الْمُقْتِرِ
قَدَرُهٗ
مَتَاعًۢا
بِالْمَعْرُوْفِ
حَقًّا
عَلَي
الْمُحْسِنِيْنَ
نہیں گناہ
تم پر
اگر
تم طلاق دو
عورتیں
جو نہ
تم نے انہیں ہاتھ لگایا
یا
مقرر کیا
ان کے لیے
مہر
اور انہیں خرچ دو
پر
خوش حال
اس کی حیثیت
اور پر
تنگدست
اس کی حیثیت
خرچ
دستور کے مطابق
لازم
پر
نیکو کار
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
طلاق:الطلاق اور تسریح دونوں لفظ عورت کی جدائی یا عام مفہوم میں طلاق کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ الطلاق میں تخلیہ ضروری اور ارسال جزوی شرط ہے جب کے تسریخ میں لازمی جز ارسال ہے اور وہ بھی آسانی وسہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے۔
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔