ان لوگوں کو ہر گز خیال نہ کر جو ان (کاموں) پر خوش ہوتے ہیں جو انھوں نے کیے اور پسند کرتے ہیں کہ ان کی تعریف ان (کاموں) پر کی جائے جو انھوں نے نہیں کیے، پس تو انھیں عذاب سے بچ نکلنے میں کامیاب ہر گز خیال نہ کر اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔[188]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
لَاتَحۡسَبَنَّ
الَّذِیۡنَ
یَفۡرَحُوۡنَ
بِمَاۤ
اَتَوۡا
وَّیُحِبُّوۡنَ
اَنۡ
یُّحۡمَدُوۡا
بِمَا
لَمۡ
یَفۡعَلُوۡا
فَلَا
تَحۡسَبَنَّہُمۡ
بِمَفَازَۃٍ
مِّنَ الۡعَذَابِ
وَ لَہُمۡ
عَذَابٌ
اَلِیۡمٌ
نہ آپ ہر گز سمجھیں
انہیں جو
خوش ہورہے ہیں
اس پر جو
انہوں نے کیا
اور وہ پسند کرتے ہیں
کہ
وہ تعریف کیے جائیں
اس پر جو
نہیں
انہوں نے کیا
تو نہ
آپ ہر گز سمجھیں انہیں
نجات (پانے الا)
عذاب سے
اور ان کے لیے
عذاب ہے
دردناک
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
لَاتَحۡسَبَنَّ
الَّذِیۡنَ
یَفۡرَحُوۡنَ
بِمَاۤ
اَتَوۡا
وَّیُحِبُّوۡنَ
اَنۡ
یُّحۡمَدُوۡا
بِمَا
لَمۡ یَفۡعَلُوۡا
فَلَا تَحۡسَبَنَّہُمۡ
بِمَفَازَۃٍ
مِّنَ الۡعَذَابِ
وَ لَہُمۡ
عَذَابٌ
اَلِیۡمٌ
آپ ہر گز خیال نہ کریں
ان لوگوں کو جو
خوش ہوتے ہیں
اُن پر جو
انہوں نے کیے
اور وہ چاہتے ہیں
کہ
ان کی تعریف کی جائے
ان پر جو
اُنہوں نے نہیں کیے
چنانچہ آپ انہیں ہر گز خیال نہ کریں
کامیاب
عذاب سے( نکلنے میں)
اور اُن کے لیے
عذاب ہے
در دناک
حافظ نذر احمد حفظه الله
لَا تَحْسَبَنَّ
الَّذِيْنَ
يَفْرَحُوْنَ
بِمَآ
اَتَوْا
وَّيُحِبُّوْنَ
اَنْ
يُّحْمَدُوْا
بِمَا
لَمْ يَفْعَلُوْا
فَلَا
تَحْسَبَنَّھُمْ
بِمَفَازَةٍ
مِّنَ
الْعَذَابِ
وَلَھُمْ
عَذَابٌ
اَلِيْمٌ
آپ ہرگز نہ سمجھیں
جو لوگ
خوش ہوتے ہیں
اس پر جو
انہوں نے کیا
اور وہ چاہتے ہیں
کہ
ان کی تعریف کی جائے
اس پر جو
انہوں نے نہیں کیا
پس نہ
سمجھیں آپ انہیں
رہا شدہ
سے
عذاب
اور ان کے لیے
عذاب
دردناک
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]