اور اگر تم ڈروکہ یتیموں کے حق میں انصاف نہیں کرو گے تو (اور) عورتوں میں سے جو تمھیں پسند ہوں ان سے نکاح کرلو، دو دو سے اور تین تین سے اور چار چار سے، پھر اگر تم ڈرو کہ عدل نہیں کرو گے تو ایک بیوی سے، یا جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ ہوں (یعنی لونڈیاں)۔ یہ زیادہ قریب ہے کہ تم انصاف سے نہ ہٹو۔[3]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَاِنۡ
خِفۡتُمۡ
اَلَّا
تُقۡسِطُوۡا
فِی الۡیَتٰمٰی
فَانۡکِحُوۡا
مَا
طَابَ
لَکُمۡ
مِّنَ النِّسَآءِ
مَثۡنٰی
وَ ثُلٰثَ
وَرُبٰعَ
فَاِنۡ
خِفۡتُمۡ
اَلَّا
تَعۡدِلُوۡا
فَوَاحِدَۃً
اَوۡ
مَامَلَکَتۡ
اَیۡمَانُکُمۡ
ذٰلِکَ
اَدۡنٰۤی
اَلَّا
تَعُوۡلُوۡا
اور اگر
خوف ہو تمہیں
کہ نہ
تم انصاف کرسکو گے
یتیموں ( لڑکیوں) میں
تو نکاح کرلو
جو
پسند آئیں
تمہیں
عورتوں میں سے
دو دو
اور تین تین
اور چار چار
پھر اگر
ڈروتم
کہ نہ
تم عدل کرو گے
تو ایک ہی ہے
یا
جن کے مالک ہوئے
دائیں ہاتھ تمہارے
یہ
زیادہ قریب ہے
کہ نہ
تم نہ انصافی کرو
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَاِنۡ
خِفۡتُمۡ
اَلَّا
تُقۡسِطُوۡا
فِی الۡیَتٰمٰی
فَانۡکِحُوۡا
مَا
طَابَ لَکُمۡ
مِّنَ النِّسَآءِ
مَثۡنٰی
وَ ثُلٰثَ
وَرُبٰعَ
فَاِنۡ
خِفۡتُمۡ
اَلَّا
تَعۡدِلُوۡا
فَوَاحِدَۃً
اَوۡ
مَا
مَلَکَتۡ
اَیۡمَانُکُمۡ
ذٰلِکَ
اَدۡنٰۤی
اَلَّا
تَعُوۡلُوۡا
اور اگر
ڈرو تم
یہ کہ نہ
تم انصاف کر سکو گے
یتیموں کے حق میں
تو تم نکاح کر لو
جو
پسند آئیں تمہیں
عورتوں میں سے
دو دو
اور تین تین
اور چار چار
سو اگر
ڈرو تم
یہ کہ نہ
تم عدل کر سکو گے
تو ایک ہی
یا
جن کے
مالک ہوئے
دائیں ہاتھ تمہارے
یہ
زیادہ قریب ہے
یہ کہ نہ
تم انصاف سے ہٹو
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَاِنْ
خِفْتُمْ
اَلَّا
تُقْسِطُوْا
فِي
الْيَتٰمٰى
فَانْكِحُوْا
مَا
طَابَ
لَكُمْ
مِّنَ
النِّسَآءِ
مَثْنٰى
وَثُلٰثَ
وَرُبٰعَ
فَاِنْ
خِفْتُمْ
اَلَّا
تَعْدِلُوْا
فَوَاحِدَةً
اَوْ مَا
مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ
ذٰلِكَ
اَدْنٰٓى
اَلَّا
تَعُوْلُوْا
اور اگر
تم ڈرو
کہ نہ
انصاف کرسکوگے
میں
یتیموں
تو نکاح کرلو
جو
پسند ہو
تمہیں
سے
عورتیں
دو ، دو
اور تین تین
اور چار، چار
پھر اگر
تمہیں اندیشہ ہو
کہ نہ
انصاف کرسکو گے
تو ایک ہی
یا جو
لونڈی جس کے تم مالک ہو
یہ
قریب تر
کہ نہ
جھک پڑو
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قِسْط:کا لفظ دوسرے کو اس کا پورا پورا حق ادا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ وہ یکمیشت ہو یا بالا قساط۔ خصوصاً جبکہ باب افعال سے ہو اور اس کا تعلق ظاہری چیزوں سے ہوتا ہے۔
عَدْل:دوسرے کو اس کا پورا پورا حق یا اس کی مالیت کے برابر اس کا عوض دینا اور تناسب اور مساوات کو ملحوظ رکھنا اور اس کا استعمال ظاہری اور باطنی اموار میں عام ہیں۔