تفسیر ابن کثیر
نماز اور ہماری رفتار ٭٭
سعی سے مراد یہاں قصد جیسے اور جگہ ہے آیت «ثُمَّ اَدْبَرَ يَسْعٰى» [ 79۔ النازعات: 22 ] اور فرمان ہے آیت «فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ» [ 62۔ الجمعہ: 9 ] یعنی جمعہ کی نماز کا قصد و ارادہ کرو، یہاں سعی کے معنی دوڑنے کے نہیں کیونکہ نماز کے لیے دوڑ کر جانا ممنوع ہے، حدیث شریف میں ہے جب تم نماز کے لیے آؤ بلکہ سکینت و وقار کے ساتھ آؤ۔ [صحیح بخاری:636]