🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر احسن البیان
سورة الإسراء/بني اسرائيل
وَّ قُلۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ لِبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اسۡکُنُوا الۡاَرۡضَ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَۃِ جِئۡنَا بِکُمۡ لَفِیۡفًا ﴿۱۰۴﴾ؕ
اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے فرما دیا کہ اس سرزمین (1) پر رہو سہو۔ ہاں جب آخرت کا وقت آئے گا ہم سب کو سمیٹ لپیٹ کرلے آئیں گے[104]
تفسیر احسن البیان
14۔ 1 بظاہر اس سرزمین جس سے فرعون نے موسیٰ ؑ اور ان کی قوم کو نکالنے کا ارادہ کیا تھا۔ مگر تاریخ بنی اسرائیل کی شہادت یہ ہے کہ مصر سے نکلنے کے بعد دوبارہ مصر نہیں گئے، بلکہ چالیس سال میدان تیہ میں گزار کر فلسطین میں داخل ہوئے۔ اس کی شہادت سورة اعراف وغیرہ میں قرآن کے بیان سے ملتی ہے۔ اس لئے صحیح یہی ہے کہ اس سے مراد فلسطین کی سرزمین ہے۔