🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر احسن البیان
سورة الأنبياء
وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَاۤ اِبۡرٰہِیۡمَ رُشۡدَہٗ مِنۡ قَبۡلُ وَ کُنَّا بِہٖ عٰلِمِیۡنَ ﴿ۚ۵۱﴾
یقیناً ہم نے اس سے پہلے ابراہیم کو اسکی سمجھ بوجھ بخشی تھی اور (1) ہم اسکے احوال سے بخوبی واقف تھے (2)۔[51]
تفسیر احسن البیان
51۔ 1 مِنْ قَبْلُ سے مراد تو یہ ہے کہ ابراہیم ؑ کو رشد و ہدایت (یا ہوشمندی) دینے کا واقع، موسیٰ ؑ کو ابتدائے تورات سے پہلے کا ہے یہ مطلب ہے کہ ابراہیم ؑ کو نبوت سے پہلے ہی ہوش مندی عطا کردی تھی۔ 51۔ 2 یعنی ہم جانتے تھے کہ وہ اس رشد کا اہل ہے اور وہ اس کا صحیح استعمال کرے گا۔