🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة الروم
وَ مَاۤ اَنۡتَ بِہٰدِ الۡعُمۡیِ عَنۡ ضَلٰلَتِہِمۡ ؕ اِنۡ تُسۡمِعُ اِلَّا مَنۡ یُّؤۡمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿٪۵۳﴾
اور نہ تو کبھی اندھوں کو ان کی گمراہی سے راہ پر لانے والا ہے۔ تو نہیں سناتا مگر انھی کو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں ،پھر وہ فرماں بردار ہیں۔[53]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 53) {وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْيِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ …:} یہاں اندھوں سے بھی دل کے اندھے ہی مراد ہیں، جنھیں گمراہی سے نکال کر نجات کی راہ پر لے آنا آپ کے بس میں نہیں اور نہ ایسا کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ دیکھیے سورۂ نمل (۸۰، ۸۱)۔