🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة آل عمران
وَ لَا تَہِنُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَ اَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳۹﴾
اور نہ کمزور بنو اور نہ غم کرو اور تم ہی غالب ہو، اگر تم مومن ہو۔[139]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 139) {وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا …:} اوپر کی آیت { قَدْ خَلَتْ } اس بشارت کی تمہید تھی اور { وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ } کے لیے ایک طرح کی دلیل کہ پہلی امتوں کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ اہل باطل کو اگرچہ غلبہ حاصل ہوا مگر عارضی، آخر کار وہ تباہ و برباد ہو گئے۔ یہی حال تمھارا ہے، اس لیے کسی قسم کے { وَهْنٌ } (کمزوری) سے کام نہ لو، غم نہ کرو، اگر تم مومن ہو تو تمھی غالب رہو گے۔ چنانچہ اس کے بعد ہر لڑائی میں مسلمان غالب ہوتے رہے۔