🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة القلم
فَطَافَ عَلَیۡہَا طَآئِفٌ مِّنۡ رَّبِّکَ وَ ہُمۡ نَآئِمُوۡنَ ﴿۱۹﴾
پس اس پر تیرے رب کی طرف سے ایک اچانک عذاب پھر گیا، جب کہ وہ سوئے ہوئے تھے۔[19]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 20،19) {فَطَافَ عَلَيْهَا طَآىِٕفٌ مِّنْ رَّبِّكَ …: طَآىِٕفٌ } پھر جانے والا، چکر لگانے والا۔ مراد اللہ کی طرف سے اچانک عذاب ہے جس کے ایک ہی چکر سے باغ کا نام و نشان مٹ گیا، یعنی رات باغ کو آگ لگ گئی اور صبح زمین صاف تھی، جس طرح کھیتی کٹنے کے بعد ہوتی ہے۔