🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر ابن کثیر
سورة الحجر
قَالَ فَاخۡرُجۡ مِنۡہَا فَاِنَّکَ رَجِیۡمٌ ﴿ۙ۳۴﴾وَّ اِنَّ عَلَیۡکَ اللَّعۡنَۃَ اِلٰی یَوۡمِ الدِّیۡنِ ﴿۳۵﴾قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِیۡۤ اِلٰی یَوۡمِ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿۳۶﴾قَالَ فَاِنَّکَ مِنَ الۡمُنۡظَرِیۡنَ ﴿ۙ۳۷﴾اِلٰی یَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴿۳۸﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] فرمایا اب تو بہشت سے نکل جا کیوں کہ تو رانده درگاه ہے[34]اور تجھ پر میری پھٹکار ہے قیامت کے دن تک[35]کہنے لگا کہ اے میرے رب! مجھے اس دن تک کی ڈھیل دے کہ لوگ دوباره اٹھا کھڑے کیے جائیں[36]فرمایا کہ اچھا تو ان میں سے ہے جنہیں مہلت ملی ہے[37]روز مقرر کے وقت تک کی[38]
......
[ترجمہ فتح محمد جالندھری] (خدا نے) فرمایا یہاں سے نکل جا۔ تو مردود ہے[34]اور تجھ پر قیامت کے دن تک لعنت (برسے گی)[35](اس نے) کہا کہ پروردگار مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ (مرنے کے بعد) زندہ کئے جائیں گے[36]فرمایا کہ تجھے مہلت دی جاتی ہے[37]وقت مقرر (یعنی قیامت) کے دن تک[38]
......
[ترجمہ عبدالسلام بن محمد] فرمایا پھر اس سے نکل جا ، کیونکہ یقینا تو مردود ہے۔[34]اور بے شک تجھ پر قیامت کے دن تک خاص لعنت ہے۔[35]اس نے کہا اے میرے رب! پھر مجھے اس دن تک مہلت دے جب وہ اٹھائے جائیں گے۔[36]فرمایا تو بے شک تو مہلت دیے گئے لوگوں سے ہے۔[37]ایسے وقت کے دن تک جو معلوم ہے۔[38]
......
تفسیر ابن کثیر، تفسیر آیت/آیات، 34،35،36،37،38
ابدی لعنت ٭٭
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم کا ارادہ کیا جو نہ ٹلے، نہ ٹالا جا سکے کہ ’ تو اس بہترین اور اعلی جماعت سے دور ہو جا تو پھٹکارا ہوا ہے۔ قیامت تک تجھ پر ابدی اور دوامی لعنت برسا کرے گی ‘۔
کہتے ہیں کہ اسی وقت اس کی صورت بد گئی اور اس نے نوحہ خوانی شروع کی، دنیا میں تمام نوحے اسی ابتداء سے ہیں۔ مردود و مطرود ہو کر پھر آتش حسد سے جلتا ہوا آرزو کرتا ہے کہ قیامت تک کی اسے ڈھیل دی جائے اسی کو یوم البعث کہا گیا ہے۔ پس اس کی یہ درخواست منظور کی گئی اور مہلت مل گئی۔