🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر ابن کثیر
سورة الرحمٰن
مُتَّکِـِٕیۡنَ عَلٰی فُرُشٍۭ بَطَآئِنُہَا مِنۡ اِسۡتَبۡرَقٍ ؕ وَ جَنَا الۡجَنَّتَیۡنِ دَانٍ ﴿ۚ۵۴﴾فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ﴿۵۵﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی] جنتی ایسے فرشوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے، اور ان دونوں جنتوں کے میوے بالکل قریب ہوں گے[54]پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟[55]
......
[ترجمہ فتح محمد جالندھری] (اہل جنت) ایسے بچھونوں پر جن کے استرا طلس کے ہیں تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔ اور دونوں باغوں کے میوے قریب (جھک رہے) ہیں[54]تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟[55]
......
[ترجمہ عبدالسلام بن محمد] ایسے بستروں پر تکیہ لگائے ہوئے ، جن کے استر موٹے ریشم کے ہیں اور دونوں باغوں کا پھل قریب ہے۔[54]تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے ؟[55]
......
تفسیر ابن کثیر، تفسیر آیت/آیات، 54،55
جنت یافتہ لوگ ٭٭
جنتی لوگ بےفکری سے تکئيے لگائے ہوئے ہوں گے، خواہ لیٹے ہوئے ہوں خواہ باآرام بیٹھے ہوئے تکیہ سے لگے ہوئے ہوں، ان کے بچھاؤنے بھی اتنے بڑھیا ہوں گے کہ ان کے اندر کا استر بھی دبیز اور خالص زرین ریشم کا ہو گا، پھر اوپر کا ابرا کچھ ایسا ہو گا، اسے تم خود سوچ لو۔
مالک بن دینار اور سفیان ثوری رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں استر کا یہ حال ہے اور ابرا تو محض نورانی ہو گا- جو سراسر اظہار رحمت و نور ہو گا۔ پھر اس پر بہترین گلکاریاں ہوں گی، جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ان جنتوں کے پھل جنتیوں سے بالکل قریب ہیں۔ جب چاہے جس حال میں چاہیں وہاں سے لے لیں، لیٹے ہوں تو بیٹھا ہونے کی اور بیٹھے ہوں تو کھڑا ہونے کی ضرورت نہیں، خودبخود شاخیں جھوم جھوم کر جھکتی رہتی ہیں۔
جیسے فرمایا «‏‏‏‏قُطُوْفُهَا دَانِيَةٌ» [69- الحاقة:23] ‏‏‏‏ اور فرمایا «‏‏‏‏وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلٰلُهَا وَذُلِّـلَتْ قُـطُوْفُهَا تَذْلِيْلًا» ‏‏‏‏ [76- الإنسان:14] ‏‏‏‏ الخ، یعنی بے حد قریب میوے ہیں لینے والے کو کوئی تکلیف یا تکلف کی ضرورت نہیں، خود شاخیں جھک جھک کر انہیں میوے دے رہی ہیں پس تم اپنے رب کی نعمتوں کے انکار سے باز رہو۔