🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الأعراف
قَالُوۡۤا اَجِئۡتَنَا لِنَعۡبُدَ اللّٰہَ وَحۡدَہٗ وَ نَذَرَ مَا کَانَ یَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا ۚ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۷۰﴾
انھوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہم اس اکیلے اللہ کی عبادت کریں اور انھیں چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے؟ تو جس کی دھمکی تو ہمیں دیتا ہے وہ ہم پر لے آ، اگر تو سچوں میں سے ہے۔[70]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
70۔ وہ کہنے لگے: کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ ہم ایک ہی اللہ کی عبادت کریں اور جنہیں ہمارے آباء و اجداد پوجتے [74] رہے انہیں چھوڑ دیں؟ اگر تو سچا ہے تو جس (عذاب) کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ وہ لے آ۔
[74] تقلید آباء کا عذر:۔

ان نصائح کے جواب میں قوم نے وہی جواب دیا جو عام طور پر مشرکین دیا کرتے ہیں کہ ہم بھلا اپنے باپ دادا کے دین کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں جبکہ ہمارے اسلاف ہم سے بہت زیادہ نیک اور عالم تھے ہم تمہاری یہ بات کبھی نہ مانیں گے اور اگر تم فی الواقع سچے ہو تو جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو وہ لا سکتے ہو تو لے آؤ۔ یہ یاد رہے کہ ایسے جواب صرف قوم کے سردار قسم کے لوگ دیا کرتے ہیں اور وہ ایسے ہٹ دھرم کیوں واقع ہوتے ہیں؟ اس کی وجہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں باقی کچھ کمزور قسم کے لوگ ہر نبی پر ایمان لانے والے بھی ہوتے ہیں۔ یہی حال سیدنا ہودؑ کی قوم کا تھا۔