🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة البقرة
وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ اٰمَنُوۡا وَ اتَّقَوۡا لَمَثُوۡبَۃٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ خَیۡرٌ ؕ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾٪
اور اگر وہ ایمان لاتے اور بچتے تو یقینا اللہ کے پاس سے تھوڑا ثواب بھی بہت بہتر تھا، کاش! وہ جانتے ہوتے۔[103]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
103۔ اور اگر یہ لوگ ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو اللہ کے ہاں انہیں جو ثواب ملتا وہ بہت بہتر تھا۔ کاش وہ [122] جانتے ہوتے
[122] عالم بے عمل جاہل ہے:۔

پہلی آیت میں فرمایا کہ یہود کو اس بات کا علم تھا اور اس آیت میں فرمایا کاش وہ جانتے ہوتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی عالم اپنے علم کے خلاف گناہ کا کام کرتا ہے تو وہ در حقیقت عالم نہیں بلکہ جاہل ہے۔ لہٰذا وہ عالم کہلانے کا مستحق نہیں۔