🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة التوبة
فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ حَسۡبِیَ اللّٰہُ ۫٭ۖ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ وَ ہُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۱۲۹﴾٪
پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دے مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اسی پر بھروسا کیا اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔[129]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
129۔ پھر بھی اگر لوگ اعراض [152] کریں تو ان سے کہہ دیجئے: مجھے میرا اللہ کافی ہے۔ جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ میں اس پر بھروسہ کرتا ہوں اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے
[152] یعنی اگر یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت، حد درجہ شفقت، خیر خواہی اور دلسوزی کی کچھ بھی قدر نہیں کرتے تو جانے دیجئے۔ اگر یہ سب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منہ پھیر لیں تو یقیناً اللہ تعالیٰ ہی آپ کی مدد کے لیے کافی ہے اور اسی پر بھروسہ کیجئے جو کائنات کی ایک ایک چیز حتیٰ کہ عرش عظیم کا بھی مالک ہے۔