اور جن لوگوں نے برائیاں کمائیں، کسی بھی برائی کا بدلہ اس جیسا ہوگا اور انھیں بڑی ذلت ڈھانپے گی، انھیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا، گویا ان کے چہروں پر رات کے بہت سے ٹکڑے اوڑھا دیے گئے ہیں، جب کہ وہ اندھیری ہے۔ یہی لوگ آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔[27]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
27۔ اور جن لوگوں نے برے کام کیے ان کو اتنا ہی بدلہ ملے گا۔ جتنی ان کی برائی ہے۔ ان پر ذلت چھائی ہو گی۔ کوئی انہیں اللہ سے بچانے والا نہ ہو گا۔ ان کے چہروں پر ایسی تاریکی چھائی ہو گی جیسے ان پر تاریک [40] رات کے پردے پڑے ہوئے ہوں۔ یہی لوگ دوزخی ہیں۔ جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے
[40] اس دنیا میں بھی جب کوئی مجرم پکڑا جاتا ہے یا اپنی رہائی سے مایوس ہو جاتا ہے تو اس کے چہرے پر سیاہی اور ذلت چھا جاتی ہے اور یہ لوگ چونکہ عادی مجرم ہوں گے پھر ان کے بچاؤ کی کوئی صورت نہ ہو گی۔ لہٰذا ان کے چہروں پر اس قدر تاریکی چھا رہی ہو گی جیسے اندھیری رات کا کچھ حصہ ان کے چہروں پر جما دیا گیا ہے۔