اور انھوں نے کہا یہودی ہو جائو، یا نصرانی ہدایت پا جائو گے، کہہ دے بلکہ (ہم) ابراہیم کی ملت (کی پیروی کریں گے) جو ایک اللہ کا ہونے والا تھا اور مشرکوں سے نہ تھا۔[135]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
135۔ یہودی کہتے ہیں کہ ”یہودی ہو جاؤ تو ہدایت پاؤ گے“ اور عیسائی کہتے ہیں کہ ”عیسائی بن جاؤ تو ہدایت پاؤ گے۔“ آپ ان سے کہیے: (بات یوں نہیں) بلکہ جو شخص ملت ابراہیم پر ہو گا وہ ہدایت پائے گا اور ابراہیم موحد تھے شرک [167] کرنے والوں میں سے نہ تھے
[167] ملت کا مفہوم اور ملت ابراہیمؑ:۔
ملت اس نظام زندگی کا نام ہے جس کی بنیاد چند مخصوص عقائد پر ہو اور ملت ابراہیمؑ کے عقائد میں سے سب سے اہم عقیدہ جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا وہ یہ ہے۔ حضرت ابراہیمؑ موحد تھے۔ شرک نہیں کرتے تھے۔ یہود مسلمانوں سے کہتے ہیں یہودی بنو گے تو نجات پا جاؤ گے۔ حالانکہ وہ خود مشرک تھے اور حضرت عزیرؑ کو ابن اللہ کہتے تھے۔ اسی طرح عیسائی بھی مسلمانوں سے یہی بات کہتے تھے حالانکہ وہ بھی تین خدا مانتے تھے اور مشرک تھے اور کفار مکہ وغیرہ کے مشرک ہونے میں تو کوئی شک ہی نہیں۔ حالانکہ وہ بھی ملت ابراہیمی کی اتباع کا دعویٰ کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان میں سے کوئی بھی نہ ہدایت پر ہے اور نہ ملت ابراہیم سے تعلق رکھتا ہے۔ کیونکہ یہ سب مشرک ہیں۔ ملت ابراہیم پر صرف وہ ہو سکتا ہے جو مشرک نہ ہو اور وہی ہدایت یافتہ ہو گا۔