🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة هود
وَ اُوۡحِیَ اِلٰی نُوۡحٍ اَنَّہٗ لَنۡ یُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِکَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ فَلَا تَبۡتَئِسۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿ۚۖ۳۶﴾
اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ بے شک حقیقت یہ ہے کہ تیری قوم میں سے کوئی ہرگز ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا، پس تو اس پر غمگین نہ ہو جو وہ کرتے رہے ہیں۔[36]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
36۔ اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم سے جو لوگ ایمان لا چکے ہیں، اب ان کے بعد کوئی ایمان نہ لائے [43] گا، لہذا ان کے کرتوتوں پر غم کرنا چھوڑ دو
[43] عذاب صرف گندے عنصر پر آتا ہے:۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کی دعوت اور قوم کے انکار کے نتیجہ میں عذاب اس وقت تک نہیں آتا جب تک اس میں کچھ بھلے آدمیوں کے نکل آنے کا امکان باقی ہو اور جب ایمان لانے والے ایمان لا چکتے ہیں اور باقی صرف گندہ عنصر ہی رہ جاتا ہے تو یہی عین عذاب کا وقت ہوتا ہے۔ اسی حقیقت کو سورۃ نوح میں سیدنا نوحؑ نے خود بھی دعا کرتے وقت کہا تھا کہ یا اللہ اب اس قوم کو غارت کر دے کیونکہ اب ان لوگوں میں کسی کے ایمان لانے کی توقع نہیں رہی بلکہ جو اولاد یہ جنیں گے وہ بھی فاسق و فاجر ہی پیدا ہو گی لہٰذا ان میں سے ایک گھرانہ بھی زندہ نہ چھوڑ [71: 26، 27]