🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الإسراء/بني اسرائيل
قُلۡ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًۢا بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیۡرًۢا بَصِیۡرًا ﴿۹۶﴾
کہہ دے میرے درمیان اور تمھارے درمیان گواہ کے طور پر اللہ کافی ہے، بے شک وہ ہمیشہ سے اپنے بندوں کی پوری خبر رکھنے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔[96]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
96۔ آپ ان سے کہئے کہ: میرے اور تمہارے درمیان بس اللہ کی گواہی کافی [114] ہے۔ وہ یقیناً اپنے بندوں سے با خبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے۔
[114] یعنی وہ خوب دیکھ رہا ہے کہ میں نے تم لوگوں تک اس کا پیغام پہنچا دیا ہے یا نہیں؟ یا منزل من اللہ احکام پر پوری طرح عمل پیرا ہوں یا نہیں اور تم جو اللہ کے پیغام کی مخالفت میں سر توڑ کوششیں کر رہے ہو وہ انھیں بھی خوب دیکھ رہا ہے۔