تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الحج
الَّذِیۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ بِغَیۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ؕ وَ لَوۡ لَا دَفۡعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ لَّہُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذۡکَرُ فِیۡہَا اسۡمُ اللّٰہِ کَثِیۡرًا ؕ وَ لَیَنۡصُرَنَّ اللّٰہُ مَنۡ یَّنۡصُرُہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیۡزٌ ﴿۴۰﴾
وہ جنھیں ان کے گھروں سے کسی حق کے بغیر نکالا گیا، صرف اس وجہ سے کہ وہ کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے۔ اور اگر اللہ کا لوگوں کو ان کے بعض کو بعض کے ذریعے ہٹانا نہ ہوتا تو بری طرح ڈھا دیے جاتے (راہبوں کے) جھونپڑے اور (نصرانیوں کے) گرجے اور (یہودیوں کے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں، جن میں اللہ کا ذکر بہت زیادہ کیا جاتا ہے اور یقینا اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرے گا، بے شک اللہ یقینا بہت قوت والا، سب پر غالب ہے۔[40]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
40۔ جنہیں ان کے گھروں سے ناحق نکالا گیا سوائے اس کے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا [67] پروردگار اللہ ہے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ ایک دوسرے کے ذریعہ [68] لوگوں کی مدافعت نہ کرتا رہتا تو خانقاہیں، گرجے، عبادت گاہیں اور مساجد جن میں اللہ کو کثرت سے یاد کیا جاتا ہے، مسمار کر دی جاتی ہیں اور اللہ ایسے لوگوں کی ضرور مدد کرتا ہے جو اس (کے دین) کی مدد کرتے ہیں۔ اللہ یقیناً بڑا طاقتور اور سب پر غالب ہے۔
[67] مسلمانوں کو یہ سب مصائب اس لئے جھیلنا پڑے اور انھیں صرف اس جرم بے گناہی کی سزا دی جاتی رہی کہ وہ صرف ایک اللہ کے پرستار تھے۔ مکہ میں جس قدر مظالم ڈھائے گئے یہ داستان اتنی طویل اور خونچکاں ہے جس کا بیان یہاں ممکن نہیں اور اس کے لئے ایک الگ کتاب درکار ہے اس بات کا کچھ تھوڑا بہت اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مکی دور میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدس پر کئی بار قاتلانہ حملے ہوئے اور سازشیں تیار کی گئیں ان کا مختصر ذکر سورۃ مائدہ کی آیت نمبر 67 کے حاشیہ میں گزر چکا ہے۔ [68] معرکہ حق و باطل میں اللہ اہل حق کی مدد کیوں کرتے ہیں؟
اس آیت میں ﴿الناس﴾ سے مراد مشرکین اور اللہ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والے لوگ ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جب بدی زور پکڑنے لگتی ہے تو اللہ تعالیٰ اہل حق کا ساتھ دے کر، خواہ وہ اہل حق کتنے ہی تھوڑے اور کمزور ہوں، بدی کا زور توڑ دیتا ہے۔ وہ قوت جسے اپنے سرنگوں ہونے کا تصور تک بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اللہ انھیں حق و باطل کے معرکہ میں لا کر اور اہل حق کی امداد کر کے انھیں صفحہ ہستی سے ملیا میٹ کر دیتا ہے۔ اللہ کا یہ قانون اگر جاری و ساری نہ ہوتا تو مشرکین اور باطل قوتیں اہل حق کو کبھی جینے نہ دیتیں نہ ہی ان کے عبادت خانے برقرار رہنے دیتیں جن میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے اور ان کے بجائے بس بت خانے۔ اور آستانے ہی دنیا میں نظر آتے۔ اس آیت میں صومعۃ کا لفظ راہب قسم کے لوگوں کے عبادت خانوں کے لئے بِیَع (واحد بیعة) عیسائیوں کی عبادت گاہ یا گرجا کے لئے صلوٰت یہودیوں کی عبادت گاہوں کے لئے اور مساجد مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے لئے استعمال ہوا ہے اور اب مسلمانوں کو جو جہاد و قتال کی اجازت دی جا رہی ہے۔ تو وہ اللہ کے اسی قانون کے مطابق ہے کہ اللہ اہل حق کی امداد کر کے باطل کا سر کچل دے۔ اس آیت میں در اصل مسلمانوں کے لئے ایک بہت بڑی بشارت دی گئی ہے اسی قانون کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہر زمانہ میں مشرکوں کے غلبہ کو روکا اور اہل حق کو ان سے بچایا ہے۔ حضرت موسیٰؑ کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے ہی اسرائیل کو مشرکوں کے شر سے محفوظ رکھا اور حضرت عیسیٰؑ کے زمانہ میں نصاریٰ کو۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ یقیناً مسلمانوں کو بھی مشرکین کے شر سے محفوظ رکھے گا اور انھیں غلبہ عطا کرے گا اور اللہ تعالیٰ ایسے حالات پیدا کر دینے اور اہل ایمان کے حق میں انھیں ساز گار بنانے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔