🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الفرقان
وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ وَ جَعَلۡنَا مَعَہٗۤ اَخَاہُ ہٰرُوۡنَ وَزِیۡرًا ﴿ۚۖ۳۵﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو بوجھ بٹانے والا بنا دیا۔[35]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
35۔ اور ہم نے موسیٰ کو کتاب [46] دی تھی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو مددگار بنا دیا
[46] یہاں کتاب سے مراد تورات نہیں کیونکہ تورات تو حضرت موسیٰؑ کو کوہ طور پر بلا کر اس وقت دی گئی تھی۔ جب بنی اسرائیل میدان تیہ میں قیام پذیر تھے۔ بلکہ اس سے مراد وہ منزل من اللہ ہدایات و احکام ہیں۔ جو آپ کو مصر سے خروج سے پہلے دی جاتی رہیں۔ ایسی ہی منزل من اللہ وحی کو اصطلاحی زبان وحی خفی یا سنت بھی کہتے ہیں اور ایسے احکام پر کتاب اللہ کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ ایسی وحی یا سنت پر عمل کرنا ایسے ہی واجب ہے جیسے وحی جلی یا وحی متلو یا اللہ کی کتاب پر۔