(ان کاحال) فرعون کی قوم اور ان لوگوں کے حال کی طرح ہے جو ان سے پہلے تھے، انھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تو اللہ نے انھیں ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لیا اور اللہ بہت سخت عذاب والاہے۔[11]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
11۔ ان لوگوں کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے جیسے آل فرعون کا اور ان لوگوں [12] کا تھا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تو اللہ نے ان کے گناہوں کے بدلے انہیں دھر لیا اور اللہ سزا دینے میں بڑا سخت ہے
[12] کافروں کے حق میں پیش گوئی:۔
ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے سب کافروں کو خواہ وہ مشرکین تھے یا یہود مدینہ یا منافقین اور مشرکین مدینہ یا نصاریٰ جو اسلام کے خلاف محاذ آرائی پر اتر آئے تھے۔ متنبہ فرمایا کہ اسلام دشمنی سے باز آ جاؤ ورنہ جس طرح آل فرعون اور قوم عاد، ثمود وغیرہ تباہ و برباد کئے جا چکے ہیں۔ تمہارا بھی وہی حشر ہونے والا ہے۔ ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر اور گناہوں کی پاداش میں دھر لیا تھا اور تمہیں بھی دھرے گا کیونکہ اللہ اپنے مسلمان بندوں سے دشمنی رکھنے والوں کو سزا دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا۔