🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة القصص
وَ لَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَہُمُ الۡقَوۡلَ لَعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿ؕ۵۱﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے انھیں پے در پے بات پہنچائی، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔[51]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
51۔ اور ہم انھیں لگاتار (نصیحت کی) باتیں پہنچاتے رہے ہیں۔ [69] تاکہ وہ نصیحت کو قبول کریں۔
[69] اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جتنے بھی نبی ان کے آس پاس مبعوث رہے ہیں۔ اب سب کی تعلیمات ان تک بھی پہنچتی رہی ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب سے قرآن کا نزول شروع ہوا ہے۔ لگاتار انھیں ہدایت کی آیات پہنچ رہی ہیں۔ جس کا مقصد یہی تھا کہ وہ کچھ نصیحت قبول کر لیتے۔ اور اگر یہ فی الواقع ہدایت کے طالب ہوتے تو کب کے ہدایت قبول کر چکے ہوتے۔